پرائیویسی پالیسی

نیوز پاکستان سے وابستہ تمام اراکین اس ضابطہ اخلاق کے پابند رہیں گے جو برطانیہ میں پریس کمپلینٹس کمیشن کی جانب سے مرتب کیے گئے ہیں جس کی نقل ذیل میں بیان کی جارہی ہے۔ کسی بھی قسم کی شکایت کے لیے ہم سے رابطہ فرمائیے۔پریس سے وابستہ افراد کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ بلند ترین پیشہ ورانہ معیارات برقرار رکھیں گے۔
پریس کے لیے ضروری ہے کہ وہ غلط ، گمراہ کن، اور مسخ شدہ معلومات اور تصاویر شائع نہ کرے۔ اگر غیرمعمولی غلطی، گمراہ کن بیان اور حقائق توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا عمل سامنے آئے تو اسے فوری طور پر درست کرکے واضح کیا جائے اور اگر ضروری ہے تو معذرت بھی شائع کی جائے۔ پریس حمایت کرنے میں آزاد ہے لیکن اسے حقائق، بیانات اور نتائج کے درمیان فرق کو واضح رکھنا ہوگا۔ کسی کی ہتکِ عزت کی صورت میں اگر پریس فریق ہے تو ضروری ہے کہ اس کی وضاحت میں درستگی اور غیرجانبدارانہ انداز اختیار کیا جائے اس وقت تک کہ جب تک کہ کوئی متقفہ مفاہمتی معاہدہ سامنے نہیں آجاتا یا جب کوئی معاہدہ سامنے آجائے تو اسے بھی شائع کیا جائے۔
صحافی پر لازمی ہے کہ وہ ہر شخص خواہ مرد ہو یا عورت کے نجی اور خاندانی معاملات، گھریلو، صحت اور ڈجیٹل روابط سمیت دیگر رابطوں کا احترام کرے۔ ایڈیٹروں سے یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ بلا اجازت کسی کی ذاتی زندگی میں دخل انداز ہونے کی صورت میں اس کی وضاحت کریں گے۔ بصورتِ دیگر شکایت کنندہ کی جانب سے اس کی ذاتی معلومات عوام میں افشا کرنے پر کارروائی کی جاسکتی ہے۔ پرائیوٹ مقامات پر کسی شخص کی اجازت کے بنا اس کی تصویر لینا کسی بھی طرح قابلِ قبول نہیں۔
نوٹ: یہاں پرائیوٹ (ذاتی) اور پبلک (عوامی) مقامات سے مراد وہ جگہیں ہیں جہاں ایک حد تک پرائیوسی کا خیال رکھا جاتا ہو۔