اسکاٹ لینڈ یارڈ کی جانب سے بانی ایم کیو ایم الطاف حسین سے پوچھے گئے سوالات کی تفصیلات منظر عام پر آ گئیں

لندن (نیوز پاکستان) لندن میں بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کی گرفتاری کے حوالے سے ماہرینِ قانون کا کہنا ہے کہ الطاف حسین پر پاکستان اور برطانیہ دونوں ممالک کے قوانین کا اطلاق ہو سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایف آئی اے کی ایک ٹیم پاکستان سے برطانیہ روانہ ہوئی ہے،

پاکستان اور برانیہ کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا حالیہ ایم او یو سائن ہونے کی وجہ سے الطاف حسین کو پاکستان کے حوالے بھی کیا جاسکتا ہے تاہم الطاف حسین برطانوی شہری ہیں اس لیے اس حوالے سے مشکلات کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔پاکستان میں موجود ایک برطانوی لاء فرم کو الطاف حسین کے خلاف کیس لڑنے کے لیے چنا جا چکا ہے۔ذرائع نے بتایا ہے کہ برطانوی پولیس الطاف حسین سے منی لانڈرنگ کے حوالے سے بھی پوچھ کچھ کر سکتی ہے۔لندن پولیس نے الطاف حسین سے پوچھا ہے کہ انہوں نے لندن میں 150گھر کیسے خریدے؟ سکاٹ لینڈ یارڈ نے بانی ایم کیو ایم سے پوچھا ہے کہ گھر خریدنے کے لیے پیسے کیسے اور کہاں سے آئے؟ دوسری جانب قانونی ماہرین کا کہنا ہے

کہ بانی ایم کیو ایم کو ضمانت ملنا نہایت مشکل ہے کیونکہ اتنے بڑے کیس میں برطانیہمیں عام طور پر ضمانت نہیں دی جاتی البتہ اگر انہیں ضمانت دی بھی گئی تو صرف دو ہفتے کی ضمانت دی جاسکتی ہے جس دوران انہیں نگرانی میں ہی رکھا جائے گا۔بانی ایم کیو ایم کو آج صبح سکاٹ لینڈ یارڈ نے ان کے گھر سے گرفتار کیا تھا اور انکی دو جائیدادوں کی تلاشی بھی لی تھی جس کے بعد سے الطاف حسین پولیس سٹشن میں موجود ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں