مقبوضہ کشمیر بھارت کے ہاتھ سے نکل گیا، مودی سرکار نے باقاعدہ طور پر اعتراف کرلیا

نئی دہلی (نیوز پاکستان) بھارت کے وزیر داخلہ امیت شاہ نے ’ آدھا سچ‘ بولتے ہوئے تسلیم کیا ہے کہ ایک تہائی مقبوضہ جموں و کشمیر ہمارے ساتھ نہیں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس کے ذمہ دار نہرو اور کانگریس ہیں۔ انہوں نے دنیا کو یہ بتا کرورطہ حیرت میں بھی ڈال دیا

کہ آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت مقبوضہ وادی چنار کو حاصل ’خصوصی‘ درجہ عارضی ہے اور یہ مستقل نہیں ہے۔ لوک سبھا میں خطاب کرتے ہوئے بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے سربراہ امیت شاہ نے اعتراف کیا کہ مقبوضہ وادی کشمیر کے لوگوں کا مرکزی حکومت پر اعتماد و بھروسہ نہیں ہے۔امیت شاہ نے اپنے خطاب میں استفسار کیا کہ اگر مقبوضہ وادی کے ایک تہائی افراد بھارت کے ساتھ نہیں ہیں تو اس کا ذمہ دارکون ہی انہوں نے کہا کہ مقبوضہ وادی کی ترقی اور وہاں کے لوگوں کی خوشحالی ہماری اولین ترجیح ہے کیونکہ وہ دیگر کی نسبت زیادہ مستحق ہیں۔ کانگریس کو سخت نکتہ چینی کا نشانہ بناتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ سابق حکمراں جماعت

مقبوضہ وادی میں آزادانہ و منصفانہ انتخابات کے انعقاد میں یکسر ناکام رہی تھی البتہ مراد جی ڈیسائی اور اٹل بہاری واجپائی کے ادوار میں مناسب انتخابات کا انعقاد ہوا تھا۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ وادی کشمیر میں جمہوری طریقہ کار کے تحت آزادانہ و منصفانہ انتخابات اس وقت کرائیں گے جب الیکشن کمیشن تاریخ کا اعلان کرے گا۔ مقبوضہ وادی چنار میں اس وقت صدارتی راج قائم ہے جس کی آئینی مدت تین جولائی 2019 کو ختم ہورہی ہے جس کے بعد انتخابات کرانا ضروری ہیں البتہ مرکزی حکومت کو صدارتی راج کی مدت میں توسیع کرنے کا مجاز قرار دیا گیا ہے۔امیت شاہ نے اپنی تقریر کے دوران جب نہرو کا نام لیا تو کانگریس سے تعلق رکھنے والے اراکین نے شدید اعتراض کیا اور ہنگامہ آرائی کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں