لیڈی ڈیانا کس خفیہ پلان پر 2 بار پاکستان آئیں؟ ہوش اڑا دینے والے انکشافات

لاہور (نیوز پاکستان) برطانوی شہزادی لیڈی ڈیانا کو اپنی کرشماتی شخصیت، اور شاندار فلاحی کاموں کی وجہ سے اساطیری حیثیت حاصل ہو گئی۔
لیڈی ڈیانا کی بے پناہ مقبولیت کی ایک اور وجہ ان کی تکلیف دہ ازدواجی زندگی تھی اور دنیا بھر کے لوگوں کے نزدیک وہ مظلوم تھیں۔ جو اپنے شوہر کی بے اعتنائی کا دکھ خاموشی سے جھیلتی رہیں۔ ان کے کرب اور درد کی گہرائی کا احساس ایک عالم کو تھا۔29 جولائی 1981ء کو لیڈی ڈیانا کی شادی شہزادہ چارلس سے انجام پائی۔ اس شادی کو ٹیلی ویژن پر 75 کروڑ افراد نے دیکھا۔ اس شادی سے ان کے دو بیٹے پیدا ہوئے۔ شہزادہ ولیم اور شہزادہ ہیری۔
28 اگست 1996ء کو ڈیانا کی چارلس سے شادی ختم ہو گئی۔ دونوں طرف سے ایک دوسرے پر الزامات لگائے گئے۔ لیڈی ڈیانا کی شہزادہ چارلس کے ساتھ شادی 15 برس تک قائم رہی۔ وہ صرف 20 برس کی عمر میں ہی ویلز کی شہزادی کا خطاب حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ طلاق کے بعد بہت سے تبصرے کئے گئے، بے شمار لوگوں نے طلاق کا ذمہ دار چارلس کو قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ چارلس نے ڈیانا کو بری طرح نظر انداز کرنا شروع کر دیا تھا جس سے لیڈی ڈیانا شدید مایوسی کا شکار ہو گئیں۔ کچھ کا خیال تھا کہ دونوں کے اختلافات کی ایک وجہ عمر کا فرق تھا۔ جس کی وجہ سے دونوں میں ذہنی ہم آہنگی کا فقدان تھا۔ طلاق کے بعد لیڈی ڈیانا کا نام پاکستانی نژاد ڈاکٹر حسنات کے ساتھ لیا جانے لگا۔ کہا جاتا ہے کہ لیڈی ڈیانا پاکستانی سرجن حسنات خان سے دیوانہ وار محبت کرتی تھیں، وہ اس کے پیار میں پاگل تھیں، اس کی خاطر وہ برطانیہ چھوڑنے اور پاکستان میں قیام پر غور کر رہی تھیں۔ ڈیانا کا اصرار تھا کہ حسنات اس سے خفیہ شادی کرے اور وہ حسنات سے بیٹی کی خواہش مند تھیں لیکن حسنات نے خفیہ شادی سے انکارکر دیا تھا۔ پاکستان کے لوگ جانتے ہوں گے کہ ڈاکٹر حسنات پاکستان کے ادبی و ثقافتی لیجنڈ مرحوم اشفاق احمد کے بھانجے ہیں۔ برطانوی شہریت کے حامل ڈاکٹرحسنات کاتعلق جہلم سے ہے،
سابق کرکٹراور وزیراعظم پاکستان عمران خان کی سابق اہلیہ جمائما خان نےامریکی میگزین کو بتا یا کہ وہ اور لیڈی ڈیانا بہت اچھی سہیلیاں تھیں اور یہ دوستی ایک پاکستانی شخص کی وجہ سے ہوئی تھی۔ لیڈی ڈیانا برطانوی شاہی خاندان کی بہو بننے کے بعد والی زندگی سے زیادہ خوش نہیں تھیں اور انہیں برطانیہ میں مقیم پاکستانی شخص ڈاکٹر حسنات سے جنون کی حد تک محبت تھی۔ لیڈی ڈیانا ڈاکٹر حسنات کی محبت میں اس حد تک سنجیدہ تھیں کہ وہ اس پاکستانی سے شادی کرنے کیلئے پاکستان منتقل ہو جانے کیلئے بھی تیار تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے میری اور عمران خان کی شادی کے بعد مجھ سے کئی مرتبہ رابطہ کیا اور پاکستان میں گزرے میرے وقت سے متعلق تفصیلات جانیں۔ لیڈی ڈیانا ان سے اکثر رائے طلب کرتی تھیں کہ آیا انہیں پاکستان منتقل ہونا چاہیے یا نہیں،
کہا جاتا ہے کہ شہزادی ڈیانا نے عمران خان کے اسپتال کے فنڈ ریزنگ کیلئے دو بار پاکستان کا دورہ کیا، لیکن جمائما خان بتاتی ہیں کہ لیڈی ڈیانا نے ڈاکٹر حسنات سے شادی کرنے کیلئے ہی 2 مرتبہ پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ اور دونوں دوروں کے دوران لیڈی ڈیانا نے ڈاکٹر حسنات کی فیملی سے خفیہ ملاقاتیں کرکے انہیں راضی کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم ڈاکٹر حسنات کی والدہ کے انکار کے باعث ان کی شادی نہ ہو پائی۔
ڈیانا نے حسنات کی والدہ سے شادی کی اجازت کے لئے ان کے خاندان کے ساتھ بھی کچھ قت گزارا۔ ڈیانا حسنات کے خاندان کو متاثر کرنا چاہتی تھی خاص کر ان کی والد ہ کو۔ جمائما کہتی ہے کہ حسنات کی والدہ اس بات پر رضامند نہیں تھی کہ ان کا بیٹا ایک انگریز خاتون سے شادی کرے، کسی انگریز لڑکی سے شادی ہر قدامت پسند پشتون ماں کے لئے ایک برے خواب جیسی ہوتی ہے۔آپ تعلیم کے لئے بیٹے کو برطانیہ بھیجیں اور اس کی واپسی انگریز دلہن کے ساتھ ہو یہ ایک خوفناک بات ہے۔ امریکی میگزین لکھتا ہے کہ حسنات ڈیانا کے ساتھ اپنے تعلق کو دنیا کے سامنے لانے میں تذبذب کا شکار تھا۔ وہ زندگی میں شہرت کی چکا چوند ہونے کے خیال سے بھی نفرت کرتا تھا۔ دونوں کے ملاپ میں ڈیانا کی عالمی سطح پر شہرت جیسے مسائل ہی رکاوٹ بن گئے۔
کئی برس گزر جانے کے بعد ڈاکٹر حسنات نے بتایا ہے کہ شہزادی ڈیانا سے میری پہلی ملاقات 1995 میں ہوئی تھی۔ میں اس وقت رائیل برمٹن اسپتال میں پی ایچ ڈی کررہا تھا اور میرا مضمون دل کے امراض تھے۔ یعنی میں دل کا ڈاکٹر تھا۔ اس وقت میری عمر 36 سال تھی۔ یہاں ڈیانا اکثر آتی تھی اور یہاں سے ہماری ملاقاتیں شروع ہوئیں جو بعد میں تعلق داری میں بدل گئیں۔ ایک ملاقات میں، میں نے ڈیانا کو اپنے گھر مدعو کیا، یہ ایک رسمی سی دعوت تھی مگر ڈیانا نے اسے فوری طور پر قبول کرلیا۔ میرا گھر ایسٹ لندن میں سٹریٹ فورڈ میں تھا۔ بس اس ملاقات کے بعد ہماری دوستی گہری ہوگئی اور پھر ہم کھانا کھانے باہر ایک ساتھ جانےلگے اور اس سے ہماری دوستی محبت میں بدل گئی۔
میرا اور لیڈی ڈیانا کا تعلق دو سال تک رہا آپ اسے رومانس کہہ سکتے ہیں۔ اس دوران مجھے یہ پتہ چلا کہ ڈیانا کی شدید خواہش تھی کہ اس کی ایک بیٹی ہوتی، اس کے دو بیٹے تھے مگر وہ بار بار کہتی تھی کہ اسےایک بیٹی کو ضرورت یا خواہش ہے۔ شاید وہ مجھے یہ بتانا چاہ رہی تھی کہ شادی کے بعد ہم اللہ سے دعا کریں گے کہ ہمیں ایک بیٹی عطا کردے ۔ لوگ بار بار ایک سوال پوچھتے ہیں کہ آخر میں نے لیڈی ڈیاناکی محبت کو دھتکارا کیوں؟ اس پر مجھے خاصہ لعن طعن کیا گیا مگر میں آج یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہماری جدائی میری طرف سے نہیں ہوئی تھی بلکہ یہ ڈیانا ہی تھی جس نے بے وفائی ک ی اور ایک اور مرد سے بھی ملنا شروع کردیا حالانکہ عین اسی دوران وہ مجھ سے بھی شادی کی بات کررہی تھی ۔ یہ سب کچھ میرے لئے بہت تکلیف دہ تھا اور میں نے ڈیانا سےکہا تھا کہ ڈیانا یہ سب کچھ تمھیں برباد کر کے رکھ دے گا اور ایسا ہی ہوا ۔ جس شخص سے ڈیانا نے ملنا شروع کیا تھا وہ دودی الفائد تھا ،جوکہ ایک ارب پتی مصری شخص تھا۔
ڈاکٹر حسنات کا کہنا ہےکہ میرا اور لیڈی ڈیانا کا اس بات پر تو اتفاق تھا کہ ہماری شادی ہونی چاہئے مگر کہاں، کب اور کیسے پر اتفاق نہ ہو سکا تھا۔ اس دوران ڈیانا کے ذاتی خادم بٹلر نے ایک پیر صاحب سے ملاقات بھی کی تاکہ وہ دعا کریں اور کسی طرح ہماری شادی ہوجائے ۔ یہ آئیڈیا ڈیانا کا تھا میرا نہیں۔ مجھے اس بارے میں کچھ علم نہ تھا پھر اچانک ڈیانا نے بتایا کہ وہ جادوگروں اور پیروں کی خدمات حاصل کر رہی ہے تاکہ کسی طرح ہماری شادی ہوجائے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ڈیانا بس آنکھیں بند کر کے میرے ساتھ شادی کرنے پر زور دے رہی تھی اور اس کےبعد کیا ہوگا ؟ اس بارے میں وہ سوچنے پر تیار نہ تھی۔ بس اسی بات پر ہماری بحث ہوتی تھی کہ ہم آنکھیں بند کر کے شادی نہیں کرسکتے تھے۔
ڈیانا سے دوستی اور تعلق کے دوران مجھے بہت دھمکیاں ملتی رہتی تھیں، اس دوران ڈیانا کی والدہ نے بھی اس سے بات چیت بند کردی تھی کیونکہ وہ اس کی میرے ساتھ دوستی اور تعلق پر بہت ناراض تھی۔ اس وقت تک سب کچھ نارمل ہی چل رہاتھا مگر مجھے اچانک لگا کہ ڈیانا نے میرے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔وہ ایک دن چھٹی گزارنے الفائد کے پاس گئی اور جہاں اس کے بیٹے ڈوڈی سے ملی اور یقیناً مجھے برا لگا ۔ میں نے ڈیانا کو کہا کہ وہ الفائد کے بیٹے ڈوڈی سے کیوں مل رہی ہے؟ اس بات پر ہمارے درمیان تلخی پیدا ہوئی مگر ڈیانا کا کہنا تھا کہ ایسی کوئی بات نہیں اور وہ ایک نارمل سی ملاقات تھی۔ جب کہ میرا خیال تھا کہ کوئی ہے جو ہمارے درمیان تعلق ختم کرانے کے لئے اس قسم کی سازشیں کررہا ہے اور اسی نے یہ ملاقات طے کرائی تھی مگر ڈیانا اسے ماننے پر تیار نہ ہوئی ۔ میں نے بہرحال ڈیانا کو بتا دیا تھا کہ وہ اپنی تباہی کے راستے پر چل رہی ہے۔اس تلخی کے بعد ہمارے درمیان دراڑ پیدا ہوگئی اور ڈیانا ڈوڈی کے پاس چلی گئی۔ جس رات وہ ہلاک ہوئی، اسی رات میں اسے کافی دیر تک فون کرنے کی کوشش کرتا رہا مگر اس سے بات نہ ہو سکی ۔
31اگست1997کو لیڈی ڈیانا اور دودی پاپارازیوں سے بچنے کی کوکشش میں تھے کہ کارحادثے کا شکار ہو گئی اور ڈیانا36سال کی عمر میں دودی کے ساتھ ہی ہلاک ہوگئی، ڈوڈی الفائد کےوالد کا موقف ہے کہ شہزادی ڈوڈی سے منگنی کر چکی تھیں اور اس سے حاملہ تھیں جس کی وجہ سے شہزادی کو قتل کرایا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں