اہم عہدوں پر آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کےلوگوں کی تعیناتیاں کئی اداروںکو نجکاری کی بھینٹ چڑھا کر ملکی معیشت کیساتھ کیا کیا جائیگا؟ معروف ماہر معاشیات نے خطرے کی گھنٹی بجادی

اسلام آباد (نیوز پاکستان) معروف ماہر معاشیات ڈاکٹر فرخ سلیم نے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کئی اہم عہدوں پر جان بوجھ کے ایسے لوگ لگائے جا رہے ہیں جو پہلے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے اداروں میں رہ چکے ہیں۔یوں وہ لوگ تو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک

کے نمائندے ہوں گے نہ کہ پاکستانی عوام کی ترجمانی کریں گے۔ یہی نہیں بلکہ انہوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آغاز میں جن صنعتوں کی نجکاری کے حوالے سے فہرست مرتب کی گئی تھی ان میں پاکستان سٹیل مل بھی شامل تھی مگر اس کونکال دیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ پاکستان سٹیل مل کی نجکاری نہیں کی جائے گی اور اسے ہم خود چلائیں گے مگر آٹھ ماہ اس پر اربوں روپے لگانے کے بعد دوبارہ سے اس کی نجکاری کافیصلہ کیاگیا ہے۔مگر یہ فیصلہ حکومت کانہیں بلکہ اس کے پیچھے وہ لابی متحرک ہے جس نے پاکستان سٹیل مل کے اثاثوں پر نظر جما رکھی ہے۔وہ لوگ کبھی چاہتے ہی نہیں کہ پاکستان سٹیل مل اپنے پیروں پر کھڑی ہو۔یہی وجہ ہے کہ بالآخر

وہ اپنے منصوبے میں کامیاب ہو گئے اور حکومت کو پاکستان سٹیل مل کی نجکاری کے لیے آمادہ کر لیا ہے۔ اگر اسی طرح اہم معاشی عہدوں پر آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے تربیت یافتہ افراد تعینات ہوتے رہے تو بہت جلد ملک کے اکثر اداروں کی نجکاری ہو جائے گی ۔واضح رہے کہ حکومت نے گزشتہ رات ڈاکٹررضا باقر کو گورنر سٹیٹ بینک اور احمد مجتبیٰ میمن کو چیئرمین ایف بی آر مقرر کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں