تحریک انصاف کی حکومت نے صرف 9 ماہ میں ریکارڈ 23 کھرب روپے کے قرضے واپس کر دیے

لاہور (نیوز پاکستان) تحریک انصاف کی حکومت نے صرف 9 ماہ میں ریکارڈ 23 کھرب روپے کے قرضے واپس کر دیے، حکومت کی جانب سے 9 ماہ کے دوران اسٹیٹ بینک سے کل 18 کھرب روپے سے زائد کا قرض حاصل کیا گیا، تاہم اس عرصے کے دوران بینکوں کیلئے کل ادائیگیوں

میں بھی اضافہ دیکھا گیا اور یہ 23 کھرب 50 ارب روپے رہی جو گزشتہ برس کے 708 ارب روپے کے مقابلے میں 231 فیصد زیادہ ہے۔ تفصیلات کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ حالیہ اعداد و شمار میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ گزشتہ برس جولائی سے اپریل 2019 کے درمیان حکومت کے بجٹ قرضوں میں 17.03 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 917 ارب 13 کروڑ روپے کی سطح تک پہنچ گئے۔ گزشتہ برس کے اسی عرصے میں بجٹ قرضوں کا حجم 786 ارب 67 کروڑ روپے تھا۔ مرکزی بینک کی رپورٹ کے مطابق حکومت کی جانب سے اسٹیٹ بینک سے حاصل کیا گیا کل قرض اپریل 2019 تک 32 کھرب 60 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ گزشتہ سال اس قرضے کا حجم 14 کھرب 90 ارب روپے تھا، تاہم اب اس قرضے میں 118.6 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ تاہم دوسری جانب اسی عرصے کے دوران ہی بینکوں کیلئے کل ادائیگیوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق حکومت نے 18 کھرب روپے سے زائد کے قرضے کی وصولی کے

مقابلے میں 23 کھرب 50 ارب روپے کی ادائیگی بھی کی ہے۔ دوسری جانب نجی شعبے کی نے بھی اسٹیٹ بینک سے پہلے سے زیادہ قرضے حاصل کیے ہیں۔ موجودہ مالی سال کے دوران نجی شعبے نے اسٹیٹ بینک سے 597 ارب 83 کروڑ روپے کا قرض حاصل کیا، جو کہ گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 458 ارب 28 کروڑ روپے تھا۔ اس حوالے سے ماہرین اقتصادیات کہتے ہیں کہ حکومتیں اکثر مرکزی بینک سے بجٹ خسارہ پورا کرنے کیلئے بڑی تعداد میں قرض حاصل کرتی ہیں، تاہم یہ قرض واپس بھی کیا جاتا ہے۔ بیرونی قرضوں اور اندرونی قرضوں کو آپس میں کنفیوز کیا جاتا ہے، جبکہ یہ دونوں مکمل طور پر الگ ہیں۔ بیرونی قرضے جو کہ ڈالرز میں ہتے ہیں، تجارتی خسارے کو پورا کرنے کیلئے حاصل کیے جاتے ہیں۔ جبکہ اندرونی قرضے جو کہ عمومی طور پر اسٹیٹ بینک سے حاصل کیے جاتے ہیں، یہ وقتی قرضے ہوتے ہیں جن کا مقصد بجٹ خسارے کو پورا کرنا ہوتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں