وزیراعظم نے عوام پر ٹیکسوں کا مزید بوجھ ڈالنے سے انکار کرتے ہوئے آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ مسترد کردیا

اسلام آباد (نیوز پاکستان) وزیراعظم نے عوام پر ٹیکسوں کا مزید بوجھ ڈالنے سے انکار کرتے ہوئے آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ مسترد کردیا، وزیراعظم نے آئی ایم ایف ،وزارت خزانہ اسٹاف لیول معاہدے کا مسودہ مسترد کر دیا، ٹیکس وصولی ہدف کم کرنےکیلیےآئی ایم ایف

کو راضی کرنے کی ہدایت۔ تفصیلات کے مطابق خبر سامنے آئی ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدے کا مسودہ مسترد کر دیا ہے۔وزیراعظم نے عوام پر ٹیکسوں کا مزید بوجھ ڈالنے سے انکار کرتے ہوئے آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ مسترد کیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزارت خزانہ اور آئی ایم ایف اسٹاف لیول معاہدے مکمل کرچکے تھے۔ تاہم جب یہ مسودہ وزیراعظم عمران خان کو پیش کیا گیا، تو انہوں نے اس مسودے کو منظور کرنے سے انکار کر دیا۔وزیراعظم نے وزارت خزانہ کو ٹیکس وصولی ہدف کم کرنےکیلیےآئی ایم ایف کو راضی کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعظم افراط زرکےمعاملے پر آئی ایم ایف کی شرائط میں نرمی چاہتے

ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ ٹیکس استثنا بارے بھی آئی ایم ایف سے مزید رعایت لی جائے۔ اس سے قبل خبر سامنے آئی تھی کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات میں قرض پروگرام پر اتفاق رائے ہو گیا ، آئی ایم ایف تین سالہ پروگرام کے تحت پاکستان کو آٹھ ارب ڈالر تک کا قرضہ دیگا،معاہدے کی تفصیلات کا اعلان کسی بھی وقت متوقع ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جمعہ کو بھی جاری رہا ۔ ذرائع نے بتایاکہ مذاکرات میں قرض پروگرام میں اتفاق رائے ہوگیا ۔ معاعدے کی تفصیلات کیلئے آئی ایف اور وزارت خرانہ کی جانب سے تفصیلات دی جائیں گی ۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف تین سالہ پروگرام کے تحت پاکستان کو آٹھ ارب ڈالر تک کا قرضہ دیگا۔ ذرائع نے بتایاکہ حتمی اعلان وزیراعظم عمران خان کی منظوری کے بعد کیا جائیگا۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف جائزہ مشن کی مشیر خزانہ حفیظ شیخ کے ہمراہ وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کا امکان ہے۔ جبکہ فی الحال وزیراعظم عمران خان نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کیلئے تیار کردہ مسودے کو مسترد کر دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں