جو بھی ہوتا ہے وزیراعظم کے کہنے پر ہی ہوتا ہے اسد عمرکون سی اہم باتیں منظر عام پر لانے والے ہیں؟ جانئے

اسلام آباد (نیوز پاکستان) معروف صحافی نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ اسد عمر نے تسلیم کرلیا ہے کہ جو وہ چاہتے تھے وہ نہیں ہوا اور کچھ اور ہو گیا۔ اسد عمر کہتے ہیں کہ وہ اس سلسلے میں تفصیلات تب بتائیں گے جب فائنل پروگرام (آئی ایم ایف معاہدہ) عمل میں لایا جائے

گا۔میرا نہیں خیال کہ اسد عمر اتنی ہمت کریں گے کہ بتائیں کہ پہلے اور اب کے معاہدے میں کیا فرق ہے کیونکہ اگر کوئی فرق ہو گا بھی تو اسد عمر اپنی توہین تو نہیں کریں گے وہ اپنے آپ کو اس طرح سے پیش کریں گے کہ میں تو بہت محب الوطن تھا میں تو آئی ایم ایف سے مذاکرات میں یہ کام نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن حفیظ شیخ نے کرلیا۔تاہم وہ ایسا کچھ بولیں گے نہیں کیونکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ حفیظ شیخ نے تو کچھ بھی نہیں کیا،سب کچھ وزیراعظم کے کہنے پر ہوتا ہے۔اور اسد عمر وزیراعظم عمران خان کے خلاف تو نہیں کھڑے ہو سکتے ہیں لیکن یہ ضرور ہے کہ اسد عمر کچھ نہ کچھ نہیں لیک ضرور کریں گے وہ کھلے عام اس بات کا اظہار نہیں کریں گے تاہم اخبارات میں

کچھ باتیں آنا شروع ہو جائیں گی کہ اسد عمر کیا چاہتے تھے اورآئی ایم ایف سے مذاکرات میں کچھ اور ہو گیا لیکن میرے خیال سےاسد عمر اپنی حکومت کے خلاف اتنا کھل کر بات نہیں کریں گے۔جب کہ دوسری جانب میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وزارت خزانہ کا قلمدان چھن جانے کے بعد اسد عمر کچھ بجھے بجھے سے ہیں، قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا چیئر مین بننے کے بعد اسد عمر دوبارہ سے پارٹی میں سرگرم تو ہو گئے ہیں تاہم میڈیا کے سوالات کے جوابات دینے سے قاصر ہیں۔ سابق وزیر خزانہ معاشی معاملات سے ایسے بھاگتے ہیں جیسے بلی پانی سے بھاگتی ہے۔جب اسد عمر سے آئی ایم ایف سے متعلق سوال پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ان باتوں کا اب مجھ سے کیا تعلق؟ مجھ سے تو سموسوں پکوڑوں کی قیمتیں پوچھیں۔اسد عمر کا کہنا تھا کہ وہ اب حکومت کا حصہ نہیں ہیں صرف پارٹی رکن ہیں اس لیے جو بھی چل رہا ہے اس کا جواب مشیروں اور وزیروں سے لیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں