’’صرف یہ ایک کام ہونے کی دیر ہے حکومت دس منٹ میں گر جائے گی ‘‘ چیئرمین نیب نے حکومتی صفوں میں موجود کن لوگوں کیخلاف کاروائی کا فیصلہ کر لیا ، یہ کون ہیں ؟

اسلام آباد (نیوز پاکستان) جاوید چوہدری نے کالم میں لکھا ہے کہ ۔۔۔۔۔ چیئرمین نیب نے کہا ہے کہ میں نے پورے نیب کو حکم جاری کر رکھا ہے یہ 17گریڈ سے اوپر کسی سرکاری افسر کو میری اجازت کے بغیر طلب نہیں کریں گے‘ بزنس مین کمیونٹی کو بھی میری اجازت کے بغیر

طلب کرنے سے روک دیا گیا ہے چنانچہ یہ ہمارے خلاف سراسر پروپیگنڈا ہے“ میں نے پوچھا ”کیا آپ پولیٹیکل انجینئرنگ کےلئے استعمال نہیں ہو رہے‘ آپ حکومت کے مخالفین کو پکڑ لیتے ہیں اور حکومت کا ساتھ دینے والوں کو چھوڑ دیتے ہیں“ وہ ہنس کر بولے ”میں پورے ملک کو چیلنج کر رہا ہوں میں نے اگر کسی ایم پی اے یا ایم این اے سے کہا ہو آپ فلاں کو چھوڑ کر فلاں کو جوائن کر لیں یا میں نے کسی عوامی نمائندے سے چائے کا ایک کپ بھی پیا ہو تو میں خود استعفیٰ دے کر گھر چلا جاؤں گا‘ آپ وہ شخص لے آئیں‘ میں عہدہ چھوڑ

دوں گا“۔ وہ رکے اور ذرا سا سوچ کر بولے ”تاہم یہ درست ہے ہم اگر آج حکومت کے اتحادیوں کو گرفتار کر لیں تو یہ حکومت دس منٹ میں گر جائے گی لیکن خدا گواہ ہے ہم یہ حکومت کےلئے نہیں کر رہے‘ہم یہ ملک کےلئے کر رہے ہیں‘ ہمارے ایک قدم سے ملک میں خوفناک بحران پیدا ہو جائے گا‘ ملک کو نقصان ہو گا اور ہم یہ نہیں چاہتے“ میں نے پوچھا ”کیا حکومت اپنے اتحادیوں کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے“ وہ ہاں میں سر ہلا کر بولے ”یہ ان کی خواہش ہے لیکن میں حکومت کے دباؤ میں نہیں ہوں‘ میں صرف ملک کے مفاد میں خاموش ہوں لیکن اس کا ہرگز ہرگز یہ مطلب نہیں انکوائری یا ریفرنس تیار نہیں ہو رہے۔ نیب کی تیاری مکمل ہے‘جلد یا بدیر حکومت کے اتحادیوں کے خلاف بھی کارروائی ہو گی“۔میں نے عرض کیا ”آپ ریفرنس بنا دیتے ہیں لیکن یہ ریفرنس منطقی نتیجے تک نہیں پہنچتے‘ کیا یہ آپ لوگوں کی نااہلی نہیں“ وہ ہنس کر بولے ”مجھے آپ لوگوں کے ایسے تجزیوں پر اعتراض ہے‘ ہمارے پاس شکایت آتی ہے‘ ہم شکایت کی

پڑتال کرتے ہیں‘ شکایت ٹھیک ہو تو انکوائری ہوتی ہے‘ ثبوت جمع کئے جاتے ہیں‘ تفتیش ہوتی ہے اور پھر ریفرنس بنا کر مقدمہ عدالت میں پیش کر دیا جاتا ہے‘ کیس وہاں جا کر رک جاتے ہیں‘ نیب نے اس وقت ساڑھے تین ہزار ریفرنس دائر کر رکھے ہیں۔ ہمارے پاس عدالتیں صرف 25 ہیں‘جج تیس دن میں فیصلے کا پابند ہے لیکن دس دس سال سے مقدمے لٹک رہے ہیں‘ ہمارے وکیل 75 ہزار سے ڈیڑھ لاکھ روپے تنخواہ لیتے ہیں ‘ مخالفین دس دس کروڑ روپے کے وکیل کھڑے کر دیتے ہیں‘ ہمارے ایک کیس میں ملزم نے علی ظفر کو 25 کروڑ روپے فیس دی تھی جبکہ ہمارے وکیل عمران کی ماہانہ تنخواہ ڈیڑھ لاکھ روپے تھی‘ آپ فرق دیکھ لیجئے‘ دوسرا کرپٹ لوگ گینگ کی شکل میں کام کرتے ہیں‘ یہ بااثر اور رئیس لوگ ہوتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں