ایمپائر کی انگلی اٹھنے والی ہے ۔۔۔۔۔عمران حکومت کی پالیسیوں پر ڈاکٹر شاہد مسعود کی تہلکہ خیز پیشگوئی سامنے آ گئی

لاہور (نیوز پاکستان) سنیئر صحافی ڈاکٹر شاہد مسعود نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کے ڈی ریل ہونے کی باتیں تو سنائی دے رہی ہیں مگر اس حوالے سے گراﺅنڈ پر کچھ نظر نہیں آتا۔انہوں نے بات جاری رکھتے ہئے کہا کہ میں نے ایک

محترم شخص سے پوچھا کہ کیا جمہوریت کے ڈی ریل ہونے والی باتوں میں کوئی سچائی ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ اللہ نہ کرے کہ ایسا کچھ ہو۔عمران خان جب اپوزیشن میں تھے اور احتجاجی دھرنوں میں کنٹینر پر کھڑے ہوکر خطاب کیا کرتے تھے تب ان کا ایک مشہور ڈائیلاگ ہوا کرتا تھا کہ ”ایمپائر کی انگلی بلند ہونے والی ہے“۔اس سارے عرصے میں کسی کوایمپائر کا پتا نہ چلااور نہ ہی کبھی انگلی بلند ہوئی تھی۔اب خیر سے پی ٹی آئی حکومت میں ہے اور عمران خان صاحب وزیراعظم پاکستان ہیں۔اب وہی ڈائیلاگ قدرے مختلف اعلامیہ

کے ساتھ اپوزیشن دہراتی نظر آتی ہے کہ آج حکومت گئی اور کل گئی۔اب ملین مارچ ہو گااور اب احتجاجی دھرنا دیا جائے گا۔اس وقت بھی اپوزیشن جماعتوں نے عید کے بعد حکومت کے خلاف محاذ کھڑا کرنے کا عندیہ دے رکھا ہے۔کافی دنوں سے یہ چہ میگوئیاں ہوتی اور افواہیں سنائی دے رہی ہیں کہ پی ٹی آئی کی حکومت جلد ختم ہوجائے گی وغیرہ وغیرہ۔ اس حوالے سے سنیئر صحافی ڈاکٹر شاہد مسعود نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کے ڈی ریل ہونے کی باتیں تو سنائی دے رہی ہیں مگر اس حوالے سے گراﺅنڈ پر کچھ نظر نہیں آتا۔انہوں نے بات جاری رکھتے ہئے کہا کہ میں نے ایک محترم شخص سے پوچھا کہ کیا جمہوریت کے ڈی ریل ہونے والی باتوں میں کوئی سچائی ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ اللہ نہ کرے کہ ایسا کچھ ہو۔ ہماری پوری کوشش ہے کہ ایسا کچھ بھی نہ ہو لیکن اگر ایساکچھ ہوا تو اس کا انجام بہت بھیانک ہو گا۔جمہوریت کے ڈی ریل ہوتے ہی پانچ ہزارے بندے ایسے ہیںکہ وہ جہاں ہیں جیسے ہیں کی بنا پر ”دبڑدوس“کر دیے جائیں گے۔حالات اس قدر کشیدہ ہوں گے کہ سنبھالے ہی نہیں جائیں گے۔اب دیکھتے ہیں کہ جمہوریت محفوظ

رہتی ہے یااپوزیشن کوئی معرکہ انجام دینے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔ واضح رہے اس سے پہلے ڈاکٹر شاہد مسعود کا کہنا ہے کہ اب کسی کے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ وہ آپکو آ کر حکومت چلانے کے طریقے بتائے۔اب چھوٹی چھوٹی چالاکیوں میں الجھنے کا وقت نہیں ہے۔پاکستان نے ہر حالت میں آگے جانا ہے۔آگے پیچھے کی تاریخیں بھی چھوڑ دیں۔آئی ایم ایف کی باتیں بھی چھوڑ دیں۔ڈاکٹر شاہد مسعود کا کہنا تھا کہ میں نے ایک محترم شخصیت سے پوچھا کہ کیا جمہوریت ڈی ریل ہونے کے چانسز ہیں؟انہوں نے جواب دیا کہ اللہ نہ کرے ایسا ہو ہم پوری کوشش کر رہے ہیں کہ پاکستان میں جمہوریت چلے۔ لیکن اگر جمہوریت ڈی ریل ہوئی تو پاکستان میں پانچ ہزار آدمی جہاں ہے اور جیسے ہے اسے اٹھا لیا جائے گا۔ڈاکٹر شاہد مسعود کا کہنا تھا کہ پانچ پزار کا سن کر میں ڈر گیا کہ کہیں اس میں میرا نام بھی شامل نہ ہو۔ خیال رہے اکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر داخلہ احسن اقبال کا دوران پروگرام گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مجھے لگتا ہے کہ اگلے سال ہمارے پاس اور کوئی چوائس نہیں رہ جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں