یہ آسان نہیں سخت بجٹ ہے،تحریک انصاف کی حُکومت نے اعتراف کر لیا

اسلام آباد (نیوز پاکستان) وفاقی بجٹ 2019-20 قومی اسمبلیمیں 70کھرب 22 ارب روپے بجٹ پیش کردیا گیا ہے، بجٹ وزیرمملکت حماد اظہر نے قومی اسمبلی میں پیش کیا، انہوں نے بجٹ تقریر کے دوران اعتراف کیا کہ یہ آسان بجٹ نہیں سخت بجٹ ہے۔حماد اظہر نے کہا کہ

یہ مالیاتی ڈسپلن لانے کے لیے اصلاحات کے حصول کا بجٹ ہے۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی بجٹ 2019-20 قومی اسمبلیمیں 70کھرب 22 ارب روپے بجٹ پیش کردیا گیا ہے، بجٹ وزیرمملکت حماد اظہر نے قومی اسمبلی میں پیش کیا، بجٹ میں قومی ترقیاتی پروگرام کیلئے1800 ارب اورغیر ترقیاتی اخراجات6192 ارب رکھے گئے۔انہوں نے قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کے میں کہا کہ ملکی قرضے اورادائیگیاں31 ہزارارب ہوگئے تھے، زرمبادلہ ذخائر 18ارب سے گرتے 10فیصد رہ گئے۔مالیاتی خسارہ 2200ارب تک پہنچ گیا، تجارتی خسارہ 32ارب ڈالرتک پہنچ گیا۔ تجارتی خسارے میں 4ارب ڈالر کی کمی لائے۔ برآمدات میں کوئی پچھلے پانچ سالوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ بجلی کا گردشی قرضہ 1200ارب تک پہنچ گیا تھا۔سرکاری اداروں کی کارکردگی میں 1300ارب کا خسارہ تھا۔ روپے کی قدرمستحکم

رکھنے کیلئے اربوں روپے جھونک دیے گئے۔ ایسا زیادہ دیر نہیں چل سکتا تھا، یوں 2017ء میں روپیہ گرنا شروع ہوا، اور ترقی کا زور ٹوٹ گیا۔ وزیرمملکت حماد اظہر نے کہا کہ ان تمام مسائل پر قابو پانے کے لیے مالیاتی ڈسپلن لانا ضروری ہے اور یہ بجٹ مالیاتی ڈسپلن لانے کے لیے اصلاحات کے حصول کا بجٹ ہے اس لیے یہ آسان بجٹ نہیں ہے بلکہ سخت بجٹ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے دور میں برآمدات میں اضافہ ہوا،اور امپورٹ میں 4ارب ڈالر کمی آئی۔بیرون ملک سے آنیوالے پیسے میں 2 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔چین ،سعودی عرب اور یواے ای سے 9.2ارب ڈالر کی امداد ملی، چین سے 313 اشیاء پر ڈیوٹی تجارت ہوگی، میں دوست ممالک کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔بجٹکی تیاری میں بیرونی خسارے میں کمی، امپورٹ میں کمی اور برآمدات میں اضافہ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ سول اور عسکری بجٹ میں کفایت شعاری کے ذریعے کمی کی گئی۔سول اور عسکری قیادت نے مثالی اعلان کیا۔ عسکری بجٹ میں اضافہ نہ کرنے پرآرمی چیف اور وزیراعظم کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔سول بجٹ 437ارب اور عسکری بجٹ1150ارب تک مستحکم رکھا جائے گا۔زراعت کیلئے 12ارب رکھے گئے ہیں،بلوچستان کیلئے ترقیاتی بجٹ 10.4ارب رکھے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں