تحفے تحائف لینے والے ہوشیار!!! بجٹ میں تحفے تحائف کی وصولی کو آمدن قراد دینے کی تجویز

اسلام آباد (نیوز پاکستان) آئندہ مالی سال 2019-20ء کے وفاقی بجٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ تحائف کی وصولی کو آمدن تصور کیا جائے تاہم قریبی رشتہ داروں سے وصول ہونے والے تحائف پر اس قانون کا اطلاق نہیں ہوگا۔ منگل کو قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 2019-20ء کے

وفاقی بجٹ کا اعلان کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے کہا کہ غیر ظاہر کردہ ذرائع آمدن سے اکٹھی ہونے والی دولت کو جوازفراہم کرنے کے لئے استعمال ہونیوالے طریقوں میں سے ایک عام طریقہ یہ ہے کہ سرمایہ کاری کو کسی گفٹ کی وصولی ظاہر کیا جائے۔اس حوالے سے ڈیٹا کے تجزئیے سے پتہ چلتا ہے کہ انکم ٹیکس گوشواروں کے مطابق تحائف کی مالیت256ارب روپے سے بھی زائد ہے۔ اس Loopholeکے خاتمے کے لئے تجویز ہے کہ وصول ہونیوالے گفٹ کو دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدن کے زمرے میں شامل کیا جائے۔ تاہم قریبی رشتہ داروں سے وصول ہونے والے تحائف پر اس قانون کا اطلاق نہیں ہو گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں