بجٹ کے نتیجے میں ملک پر کیا اثرات مرتب ہونگے؟آئی ایم ایف کی شرائط کا کتنا عمل دخل ہے؟اقتصادی ماہرین نے تشویشناک پیش گوئی کردی

لاہور (نیوز پاکستان) اقتصاد ی ماہرین نے آئندہ مالی سال کے بجٹ پر شدید تحفظات کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ اس بجٹ کے نتیجے میں ملک میں غربت، بے روزگاری او رمہنگائی میں اضافہ ہوگا۔ انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک بینکنگ اینڈ فنانس کے چیئرمین ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی

نے کہاکہ آئندہ بجٹ بنیادی طور پر آئی ایم ایف کی پیشکی شرائط پر مبنی ہے اور پی ٹی آئی کے منشور اور وعدوں کے براہ راست متصادم ہے، یہ بجٹ نہ صرف غیر حقیقت پسندانہ ہے بلکہ غیر متواز ن بھی ہے۔ بجٹ بناتے وقت زمینی خقائق کو نظر انداز کیا گیا گزشتہ دس ماہ میں معیشت کی شرح نمو اس سے کم رہی جو حکومت کو ورثے میں ملی تھی اور اگلے مالی سال میں بھی یہ کم رہے گی۔ جبکہ براہ راست اور بیرونی سرمایہ کاری میں 52فیصد کمی ہوئی اور افراط زر میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ آئندہ مالی سال میں ایف بی آر کی ٹیکس وصول کا ہدف 5550ارب روپے رکھا گیا ہے جبکہ اگلے مالی سال میں دفاع کی مد پر 11سو پچاس ارب، قرضوں اور سود کی ادائیگی کی مد پر 29سو ارب روپے اوراین ایف سی کے تحت صوبوں کو 32سو پچا س ارب روپے دینے کی تجویز ہے جو کہ 7ہزار تین سو ارب روپے بنتے ہیں۔ بجٹ

میں کہا گیا ہے کہ صوبوں کو جو رقم دی جارہی ہے اس میں سے 4سو 23ارب روپے خرچ نہیں کریں گے تاکہ بجٹ خسارے کو بڑھنے سے روکا جائے اس کا مطلب ہے کہ تعلیم،صحت اور ترقیاتی اخراجات میں کٹوتی ہوگی اس بجٹ کے نتیجہ میں ملک میں غربت، بے روزگاری اور مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔ معروف ماہر اقتصادیات ڈاکٹر قیس اسلم نے کہاکہ آئندہ بجٹ میں حکومت کی جانب سے اشیاء پر سیلز ٹیکس کی شرح 17فیصد کرنے سے غریب کی زندگی مزید مشکل ہوگی۔ ہم چاہتے تھے کہ ملک میں براہ راست ٹیکس بڑھا یا جائے۔ لیکن حکومت نے ایسا نہیں کیا انہوں نے کہاکہ رواں مالی سال کے لئے اقتصادی اہداف حاصل نہیں ہوسکے اورآئندہ مالی سال کے لئے پہلے سے زیادہ اقتصادی اہداف غیر مناسب ہیں۔آئندہ مالی سال کے بجٹ میں حکومت نے کاروباری و سرمایہ کار برادری کو کوئی مراعات نہیں دیں بلکہ پانچ برآمدی سیکٹرز پر زیر و ریٹڈ ریجیم ختم کردی ہے اس کے برآمدات پر منفی اثرات مرتب ہونگے۔ ڈالر مزید مہنگا ہوگا اور پاکستان کے ذمے قرضوں میں اضافہ ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں