”حکومت نے امیروں کے لیے گاڑیاں سستی اور غریبوں کے لیے مہنگی کردیں“معاشی ماہرین نوجوانوں کے حق میں تڑپ اٹھے

اسلام آباد (نیوز پاکستان) حکومت نے ہزار سی سی اور اس سے چھوٹی گاڑیو ں پر 2.5فیصد ٹیکس عائد کردیا جس پر معاشی ماہرین بھی تڑپ اٹھے ۔نجی نیوز چینل جیو نیوز کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کے اس اقدام نے متوسط طبقے کی مالی مشکلات میں اضافہ اور

ان کی اپنی سواری کے خواب کو حقیقت سے دور کر دیا ہے۔دوسری جانب مہنگی اور بڑی بڑی گاڑیوں پر ٹیکس میں کمی کر کے امیر افراد کو مزید فائدہ پہنچا کر غریبوں کے ساتھ انتہائی برا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ 1000 سی سی اور اس کے کم پاور اور نسبتاً کم قیمت گاڑیاں متوسط طبقہ استعمال کرتا ہے۔ یہ وہ گاڑیاں ہیں جنہیں تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد پرائیویٹ ٹیکسی کے طور پر کر سفید پوشی برقرار رکھنے کی جدو جہد میں استعمال کرتے تھے جن پر اب ٹیکس لگا کر حکومت نے ظلم کیا ہے۔ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ 1000 سی سی سے بڑی گاڑیاں عموماً امیر طبقہ رکھتا ہے جو ٹیکس دینے کی طاقت بھی رکھتا ہے لیکن ان پر ٹیکس کم کر کے متوسط طبقہ پر ٹیکس کا بوجھ بڑھانا کسی بھی طور پر غریب دوستی نہیں ہے۔واضح رہے کہ وفاقی وزیر مملکت برائے خزانہ

نے اپنی بجٹ تقریر میں بتایا کہ 1000 سی سی اور اس سے چھوٹی گاڑیوں پر 2 اعشاریہ 5 فیصد ٹیکس تجویز کیا گیا ہے۔ اس سے قبل ایک سے 1000 سی سی تک کی گاڑیاں ٹیکس سے مستثنیٰ تھیں۔حماد اظہر نے بتایا کہ 1000 سی سی سے 2000 سی سی تک کی گاڑیوں پر ٹیکس کی شرح 5 فیصد کر دی گئی ہے۔ اس سے پہلے 1700 سی سی اور اس سے بڑی گاڑیوں پر ٹیکس کی شرح 10 فیصد تھی جسے اب آدھا کر دیا گیا ہے۔اسی طرح 2000 سی سی سے بڑی گاڑیوں پر بھی ٹیکس کی شرح کو 10 فیصد سے کم کر کے 7 اعشاریہ 5 فیصد کر دیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں