”ہمیں پتا ہے کہ تحریک کے نتیجے میں معیشت تباہ ہوگی لیکن ہمارا مقصد عمران خان کو ہٹانا ہے“۔۔یہ الفاظ کس بڑی سیاسی شخصیت نے کہے؟ جانئے

اسلام آباد (نیوز پاکستان) معروف صحافی ہارون الرشید کا کہنا ہے کہ مجھے ایک اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ ہماری اس تحریک کے نتیجے میں معیشت تباہ ہو جائے گی لیکن ہم نے عمران خان کو ہٹانا ہے۔اور جب عمران خان کو پراوہ نہیں تو ہمیں بھی پرواہ

نہیں ہے۔سیاسی کشمکش سب کے سامنے ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن کو تقریر نہیں کرنے دینی جب کہ اپوزیشن نے یہ تہیہ کیا ہوا ہے کہ ہم نے عمران خان کے ساتھیوں کو تقریر نہیں کرنے دینی،اس ساری صورتحال میں معیشت ڈاکومینٹیشن کرنا بہت ضروری ہے۔معیشت کا برا حال ہو گیا ہے۔خیال رہے اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک چلانے کا فیصلہ کر لیا ہے، پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے لیڈر یعنی کے نواز شریف اور آصف علی زرداری اس وقت جیل میں قید ہیں جس کے بعد دونوں جماعتوں نے حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا تھا تاکہ حکومت پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ پاکستان تحریک انصاف کو اقتدار میں آنے کے بعد سے ہی مشکلات کا سامنا رہا ہے۔اپوزیشن نے بھی حکومت کو ٹف ٹائم دینے اور متحد ہو

کر حکومت مخالف تحریک چلانے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد سے سیاسی پنڈتوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ موجودہ حکومت کو ابھی کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اہم اسی حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی محمد مالک کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو ان کے مشیروں نے احتجاج سے روک رکھا ہے۔نواز شریف کے مشیروں کا کہنا ہے کہ اس وقت کا ماحول احتجاج کے لیے سازگار نہیں ہے۔انہوں نے نواز شریف کو ستمبر سے احتجاج کرنے کا مشورہ دیا ہے۔جب کہ دوسری جانب ایک میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں حکومت مخالف تحریک کے بیانیہ پر تقسیم ہو گئی ہیں۔ مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی مہنگائی اور معیشت کو بنیاد بنا کر احتجاج کرنا چاہتی ہیں تاہم مولانا فضل الرحمن حکومت کو جعلی قرار دیتے ہوئے حکومت گراؤ تحریک چلانا چاہتے ہیں۔

مولانا فضل الرحمن نے اس حوالے سے موقف اپنایا ہوا ہے کہ حکومت گرانے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کو ایک نکاتی ایجنڈے پر متفق ہونا چاہئیے کیونکہ عوامی مسائل کی بنیاد پر حکومتیں نہیں گرتیں۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ حکومت مخالف تحریک چلانے کے لیے لوگ اکھٹے کرنا میرا کام ہے۔ذرائع نے یہ بھی کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں حالیہ گرفتاریوں کے بعداے پی سی بلانا چاہتی ہیں لیکن مولانا فضل الرحمن چاہتے ہیں کہ واضح بیانیے کے ساتھ اے پی سی بلائی جائے۔تاہم امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ اب چونکہ پاکستان کی حکومت اور فوج ایک پیج پر ہیں لہٰذا اب حکومت مخالف چلائی گئی کوئی بھی تحریک کامیاب نہیں ہو گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں