وہی ہوا جس کا ڈر تھا : اپوزیشن نے بجٹ پر حکومت کو بڑا دھچکہ دے ہی دیا

اسلام آباد (نیوز پاکستان) قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دوران قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران شہباز شریف نے اظہار خیال کرتے

ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت کا بجٹ آئی ایم ایف کا بجٹ ہے جسے مسترد کرتے ہیں۔شہباز شریف نے کہا کہ پی ٹی آئی تیسرے مہینے آئی ایم ایف کے پاس جائے گی کہ ہدف پورے نہ کرسکے، پھر قومی سطح پر سمجھوتے ہوں گے جس سے پاکستان کی معیشت اور خراب ہوگی۔قائد حزب اختلاف کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی قیادت ہمیشہ ڈھنڈورا پیٹتی تھی کہ سوشل سیکٹر کی چیمپئن ہے، تعلیم اور علاج میں ان کا کوئی ثانی نہیں لیکن اب وہ ہمارے منصوبوں کی تختیاں اکھاڑ کر آپس میں لڑ رہے ہیں نئی تختی میں لگاؤں گا، یہ حال ہے ان کی کارکردگی اور بد ترین نا اہلی کا۔اجلاس کے دوران اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں کی جانب سے ایک مرتبہ پھر گرفتار اراکین کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے مطالبہ کیا کہ آصف زرداری، خواجہ سعد رفیق، محسن

داوڑ اور علی وزیر ہزاروں ووٹ لے کر اسمبلی میں آئے اور بجٹ کے انتہائی اہم سیشن میں انہیں اپنے علاقوں کی نمائندگی کرنی چاہیے۔شہباز شریف نے کہا کہ اسپیکر کے کندھوں پر بڑی ذمے داری ہے کہ گرفتار ارکان کو ایوان میں لائیں، امید ہے اسپیکر ان ارکان کو ایوان میں لائیں گے۔اس موقع پر چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے، بجٹ سیشن اہم ہے اور ایک ہفتے سے چل رہا ہے لیکن ارکان کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کیے جارہے، موجودہ صورتحال جمہوریت اور ایوان کی توہین ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اسپیکر اسمبلی کا اپنی کرسی اور عہدے سے وعدہ پورا نہیں ہورہا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں