پاکستانی نظام عدل

لاہور (نیوز پاکستان) ایک شخص ایک ذبح کی ہوئی مرغی لیکر مرغی فروش کی دکان پر آیا اور کہا کہ ” بھائی ذرا اس مرغی کو کاٹ کر مجھے اس کے ٹکڑے بنا دو”
دکاندار بولا: مرغی رکھ جاؤ اور آدھے گھنٹے بعد آ کر لیکر جانا۔

اتفاق سے شہر کا قاضی اس دوران مرغی فروش کے پاس آیا اور اسے سے کہا کہ یہ مرغی مجھے دے دو۔
دکاندار نے بتایا کہ یہ مرغی میری نہیں بلکہ کسی اور کی ہے اور اس وقت میرے پاس اور مرغی بھی نہیں جو آپ کو دے سکوں۔
قاضی نے کہا کوئی بات نہیں تم یہی مرغی مجھے دے دو اور مالک آئے تو کہہ دینا کہ مرغی اڑ گئی ہے۔
دکاندار نے کہا کہ ایسا کہنے کا بھلا کیا فائدہ؟ مرغی اس نے خود ذبح کر کے مجھے دی تھی پھر ذبح کی ہوئی مرغی بھلا کیسے اڑ سکتی ہے ؟
قاضی نے کہا جو میں نے کہا ہے تم اسے وہی کہنا، وہ زیادہ سے زیادہ تمھارے خلاف مقدمہ لیکر میرے پاس ہی آئے گا۔
دکاندار نے کہا کہ اللہ سب کا پردہ رکھے اور مرغی قاضی کو پکڑا دی۔

قاضی مرغی لیکر نکل گیا تو کچھ دیر میں مالک بھی آ گیا اور اپنی مرغی کی بابت پوچھا۔ دکاندار نے کہا کہ میں نے کاٹ تو دی تھی لیکن تمھاری مرغی اُڑ گئی ہے۔
مرغی والے نے حیران ہو کر پوچھا : بھلا وہ کیسے ؟ میں نے خود ذبح کی تھی، اڑ کیسے گئی؟ دونوں میں پہلے تو نوک جھونک شروع ہوئی اور پھر بات جھگڑے تک جا پہنچی جس پر مرغی والے نے کہا چلو عدالت، قاضی کے پاس جاتے ہیں۔
دونوں عدالت جا رہے تھے تو دیکھا کہ دو آدمی لڑ رہے ہیں۔ ایک مسلمان تھا اور دوسرا یہودی۔ چھڑانے کی کوشش میں مرغی فروش کی انگلی یہودی کی آنکھ میں جا لگی اور اس کی آنکھ ضائع ہو گئی۔ لوگوں نے مرغی فروش کو پکڑ لیا اور کہا کہ قاضی کے پاس لے چلو۔
لوگ مرغی فروش کو لیکر عدالت کی طرف چل پڑے، نزدیک ہی تھے تو وہ اپنے آپ کو چھڑا کر بھاگ نکلا، لوگوں نے پیچھا کیا تو قریبی مسجد میں جا گھسا اور اس کے مینار پر چڑھ گیا۔ لوگ مینار کی طرف آئے تو اس نے اوپر سے چھلانگ لگا دی اور نیچے کھڑے ایک بوڑھے آدمی پر آ گرا۔ بوڑھا وہیں فوت ہو گیا۔ اب اس بوڑھے کے بیٹے نے بھی لوگوں کے ساتھ مل کر اسے پکڑ لیا اور قاضی کے پاس جا پہنچے۔
قاضی مرغی فروش کو دیکھ کر ہنس پڑا اور اسے مرغی یاد آ گئی لیکن اسے باقی دو مقدموں کا علم نہیں تھا۔
جب قاضی کو تینوں کیسوں کے بارے میں بتایا گیا تواس نے سر پکڑ لیا ۔ اس کے بعد چند کتابوں کو الٹا پلٹا اور کہا کہ “ہم تینوں مقدمات کا یکے بعد دیگرے فیصلہ سناتے ہیں”
سب سے پہلے مرغی کے مالک کو بلایا گیا۔
تمھارا دکاندار پر کیا دعویٰ ہے ؟

مرغی والا: جناب میں نے مرغی ذبح کر کے دی کہ اس کو کاٹ دو لیکن یہ کہتا ہے کہ مرغی اڑ گئی ہے۔ قاضی صاحب مردہ مرغی بھلا کیسے اڑ سکتی ہے ؟
قاضی: کیا تم اللہ اور اس کی قدرت پر ایمان رکھتے ہو ؟
مرغی والا: جی ہاں کیوں نہیں قاضی صاحب۔
قاضی: کیا اللہ تعالی بوسیدہ ہڈیوں کو دوبارہ زندہ کرنے پر قادر نہیں ۔۔تمھاری مرغی کا زندہ ہو کر اڑنا بھلا کیا مشکل ہے ؟
یہ سن کر مرغی کا مالک خاموش ہو گیا اور اپنا کیس واپس لے لیا۔
قاضی: دوسرے مدعی کو لاؤ۔
یہودی کو پیش کیا گیا۔ اس نے عرض کیا کہ اس نے انگلی مار کر میری آنکھ ضائع کر دی ہے۔ میں بھی انگلی مار کر اس کی آنکھ ضائع کرنا چاہتا ہوں۔
قاضی نے تھوڑی دیر سوچا اور پھر کہا۔ مسلمان پر غیر مسلم کی دیت نصف ہے، اس لیے پہلے یہ مسلمان تمھاری دوسری آنکھ بھی پھوڑے گا اس کے بعد تم اس کی ایک آنکھ پھوڑ دینا۔
یہودی بس رہنے دیں، میں اپنا کیس واپس لیتا ہوں۔
قاضی: تیسرا مقدمہ بھی پیش کیا جائے۔
مرنے والے بوڑھے کا بیٹا آگے بڑھا اور عرض کیا کہ اس نے میرے باپ پر چھلانگ لگائی جس سے وہ مر گیا۔

قاضی تھوڑی دیر سوچنے کے بعد بولا۔۔۔ ایسا کرو کہ تم لوگ اسی مینار پر جاؤ، مدعی اس مینار پر چڑھ کر اس مرغی فروش پر اسی طرح چھلانگ لگادے جیسے اس نے مدعی کے باپ پر چھلانگ لگائی تھی۔
نوجوان نے کہا: ” قاضی صاحب اگر یہ دائیں بائیں ہو گیا تو میں زمین پر گر کر مر جاؤں گا۔
قاضی نے کہا یہ میرا مسئلہ نہیں، میرا کام عدل کرنا ہے۔ تمھارا باپ دائیں بائیں کیوں نہیں ہوا ؟
نوجوان نے اپنا دعوی واپس لے لیا۔
نتیجہ: اگر آپ کے پاس قاضی کو دینے کے لئے مرغی ھے تو پھر قاضی بھی آپ کو بچانے کا ہر ہنر جانتا ھے – اُمید ہے پاکستانی نظامِ عدل کے تناظر میں آپ اس کہانی کا مطلب سمجھ گئے ہوں گے ؟

اپنا تبصرہ بھیجیں