شریف خاندان اور ن لیگ کے خلاف نئے کیسز کی تیاری مریم نواز کی ویڈیو نے ن لیگ کےخلاف نیا موڑ لے لیا

لاہور (نیوز پاکستان) مریم نواز کا بیانیہ اب زور پکڑ چکا ہے کیونکہ ان کی طرف سے جج ارشد ملک کی دی گئی ویڈیو سچی ہے یا جھوٹی مگر اس پر عوامی حلقوں میں تشویش پائے جانے کے ساتھ ساتھ حکومت اور عدلیہ نے بھی کروٹ لی ہے اور اس کیس اور ویڈیو کی تحقیقات

کرنے کے حوالے سے کہا جا رہا ہے۔ ویڈیو سکینڈل نے تہلکہ خیز موڑ لے لیا ہے جبکہ اس حوالے سے عدالت عظمیٰ میں موجود پٹیشن بھی منظور ہوگئی ہے جس کی سماعت چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس گلزار احمد اور جسٹس عظمت سعید پر مشتمل 3 رکنی بینچ کریگا۔دوسری جانب نواز شریف کو ہونیوالی سزا کا فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر التوا اپیل میں ہوگا۔سینئر تجزیہ کار اور صحافی کامران خان نے نجی ٹی وی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ نواز شریف ،آصف زرداری اور دوسرے سیاستدانوں کے خلاف کرپشن کے مقدمات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا بلکہ نواز شریف اور مریم نواز کے خلاف نیب میں مزید کیسز بن رہے ہیں اور یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ منی لانڈرنگ کے حوالے سے کچھ نئی معلومات حاصل ہوئی ہیں جن کا تعلق نوازشریف اور مریم نواز سے ہے۔نیب اور

حکومتی مشینری پرعزم ہے کہ نواز شریف اور زرداری کے معاملات کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ویڈیو سکینڈل کے حوالے سے ماہر قانون بیرسٹر سعد رسول نے کہا ہے جج ارشد ملک کے رویہ سے ثابت ہوگیا ہے کہ وہ اپنے منصب کے لائق نہیں تھے۔ ان کے ذاتی کنڈکٹ سے قطع نظر اپیل میں عدالت عالیہ کے پاس پورا اختیار ہے کہ تمام شواہد دوبارہ دیکھے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے تین آپشنز ہوں گے۔اگر مریم نواز کی ویڈیو فرانزک میں درست ثابت نہیں ہوتی تو اپیل میں فیصلہ برقرار رکھا جاسکتا ہے، اگر ویڈیو درست تھی اور فیصلہ کسی دبائو کے تحت دیا گیا ہے تو ہائیکورٹ جج ارشد ملک کا فیصلہ کالعدم قرار دے سکتی ہے اور ہدایت کرسکتی ہے کہ کوئی نئی عدالت کیس کی از سر نو سماعت کرے۔تیسرا آپشن یہ ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ خود ہی تمام شواہد کو پھر سے دیکھنے کا فیصلہ کرے اور نواز شریف کے وکلا سے کہے کہ ہمیں اپنی منی ٹریل دکھا دیں اور نیب سے کہے اپنے شواہد دکھا دیں ، ہم فیصلہ کردیتے ہیں۔ذرائع کا کہنا یہ ہے کہ شریف خاندان اور ان کی پارٹی کے سرکردہ ارکان کے خلاف مزید مقدمات بنائے جا رہے ہیں اور پہلے سے موجود مقدمات کو ازسرنو اٹھایا جا رہا ہے دیکھتے ہیں یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں