حسین نواز اور جج ارشد ملک کی ملاقات کب اور کہاں ہوئی اور اس ملاقات میں دونوں کے درمیان تلخ کلامی کس بات پر ہوئی تھی ؟ دھماکہ خیز انکشاف

اسلام آباد (نیوز پاکستان) سابق وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز اور جج ارشد ملک کے درمیان 27رمضان کو ملاقات ہوئی جس میں دونوں کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی ۔ نجی نیوز چینل جیو نیوز کے مطابق جج ارشد ملک اور حسین نواز کے درمیان ملاقات مدینہ

کے ایک ہوٹل میں ہوئی، جج کے آنے جانے اور ملاقات کی گفتگو بھی ریکارڈ کی گئی۔ جج نے نواز شریف کیس پر فیصلے سے متعلق پس پردہ کچھ شخصیات کے نام حسین نواز کو بتائے۔ ملاقات میں حسین نواز نے جج کو کسی قسم کی رشوت کی پیشکش کی نہ کوئی دھمکی دی۔ جج ارشد ملک نے حسین نواز کو بتایا کہ فیصلے میں متعدد جگہوں پر غلطیاں موجود ہیں۔ملاقات میں جج ارشد ملک اور حسین نواز کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی، حسین نواز نے جج ارشد ملک سے کہا کہ آپ نے غلط فیصلہ کیوں دیا؟ واضح رہے کہ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے ہفتے کے روز پریس میڈیا کو احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو جاری کی تھی جس میں انہوں نے الزام عائد کیا تھا

کہ جج ارشد ملک کو نوازشریف کے خلاف فیصلہ دینے کے لیے بلیک میل کیا گیا اور اُن پر دباؤ ڈالا گیا۔انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے مسلم لیگ ن کے رہنما ناصر بٹ کو اپنے گھر بلوا کر انہیں بتایا تھا کہ نواز شریف کے خلاف فیصلہ دینے کے لیے انہیں مجبور کیا گیا۔مریم نواز نے دعویٰ کیا تھا جج ارشد ملک نے دباؤ میں آ کر سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف فیصلہ کیا جس کا مبینہ طور پر انہوں نے ویڈیو میں بھی اعتراف کیا ہے۔تاہم احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے اس ویڈیو کو جعلی اور مفروضے کی بنیاد پر بنائی گئی ویڈیو قرار دیتے ہوئے اس ویڈیو سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔ ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے ویڈیو میں موجود ناصر بٹ سے رابطہ کر کے انہیں پریس کانفرنس کی تیاری کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کے رہنما ناصر بٹ اس وقت لندن میں قیام پذیر ہیں ، ناصر بٹ نہ تو کسی سے براہ راست کسی کے ساتھ رابطہ کررہے ہیں اور نہ ہی ان کے ساتھ خاص افراد کے علاوہ کسی اور کی ملاقات ہورہی ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں