حالات عمران خان اینڈ کمپنی کے قابو سے باہر ، مریم نواز کی کوششیں رنگ لے آئیں ۔۔۔۔مجیب الرحمان شامی نے پاکستانیوں کو بڑی بریکنگ نیوز دے دی

لاہور (نیوز پاکستان) نامور کالم نگار مجیب الرحمان شامی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے نواز شریف کے مقدمے کے ساتھ کس کے کہنے پر کیا کچھ کِیا، اس بارے میں ہر شخص کی رائے اپنی ہو سکتی ہے، اور ہر شخص اپنا اپنا نتیجہ نکال

سکتا ہے کہ پاکستان میں معروضی تجزیے اور جائزے کی صلاحیت مفقود ہوتی جا رہی ہے۔ سیاست دانوں ہی نہیں، دانشور اور تجزیہ کار کہلانے والوں کی بھی بڑی تعداد نے اپنے اپنے مورچے لگا رکھے ہیں، ان میں وہ اپنی اپنی عینک لگا کر بیٹھ جاتے، اور اپنے رنگ میں مناظر دیکھتے اور دکھاتے رہتے ہیں۔ مریم نواز شریف نے ایک ہفتہ پہلے مسلم لیگ (ن) کے مرکزی قائدین بشمول صدر گرامی قدر شہباز شریف کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں ارشد ملک صاحب سے منسوب ویڈیو اور آڈیو ٹیپس دکھائیں اور سنوائیں۔ ان سے پتہ چلتا تھا کہ موصوف نے نواز شریف کے خلاف جو فیصلہ صادر کیا، اس کی وجہ ان کی ایک قابلِ اعتراض ویڈیو تھی، جو ان کے بقول ان کو دکھائی گئی، تو ان کے ہاتھ پائوں پھول گئے۔ خود کشی کرنے کو جی چاہا، لیکن انہوں نے اس کے بجائے ”انصاف‘‘ کے تقاضے پورے کرنے کو ترجیح دی، اور وہ فیصلہ لکھ ڈالا جو ان کو کسی پل چین نہیں لینے دے رہا تھا۔ ضمیر پر ایسا بوجھ پڑا کہ اسے ہلکا کرنے کے لیے بے چین ہو ہو گئے۔ اسی بے چینی نے انہیں اپنے فیصلے کے سقم واضح کرنے پر اکسایا، اور اسی نے انہیں اِدھر سے اُدھر دوڑایا… اس ویڈیو کہانی کی دھوم مچی تھی

کہ موصوف نے ایک پریس ریلیز جاری کر دی، اس میں اور تو کچھ تھا کہ نہیں ویڈیو ٹیپسکا انکار نہیں تھا۔ اہل نظر کا ماتھا اسی وقت ٹھنکا تھا کہ یہ کیسے جج صاحب ہیں جو عدالتی حکام بالا سے رجوع کرنے کے بجائے پریس ریلیز جاری فرما کر اپنا ”مافی الضمیر‘‘ بیان کرنے کی کوشش میں لگ گئے ہیں۔ یہی کیا کم تھا کہ چند روز بعد انہوں نے ایک بیان حلفی داغ ڈالا، جس سے معلوم ہوا کہ موصوف (فیصلہ سنانے کے بعد) نواز شریف صاحب سے جاتی اُمرا جا کر مل چکے، اور انہیں کھری کھری سنا کر بد مزہ کر چکے ہیں۔ موصوف نے اپنے اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان رابطہ سازوں سے ملاقاتوں کا بھی برملا اعتراف کیا، اور سعودی عرب جا کر حسین نواز سے ملنے کی کہانی بھی بیان (یا تصنیف) کر ڈالی۔ ان کو کروڑوں روپے دینے کی پیشکش ہوئی، دیگر مراعات اور تحفظات کا بھی یقین دلایا گیا لیکن وہ اپنی جگہ ڈٹے رہے۔ یہاں پھر قصہ نجی محفل کی ایک غیر اخلاقی ویڈیو کا نکل آیا، جسے دکھا کر ان کو بلیک میل کرنے اور مرضی کا فیصلہ لینے کی کوشش کی گئی تھی۔ ارشد ملک صاحب کو ان کے منصب سے ہٹا کر اسلام آباد ہائی کورٹ نے معاملہ وزارتِ قانون کو بھجوا دیا ہے۔ سپریم کورٹ میں بھی کسی ”شہری‘‘ نے درخواست دائر کر دی ہے، جس کی سماعت کے لیے چیف جسٹس صاحب نے اپنی سربراہی میں فل بینچ

تشکیل دے دیا ہے۔ ارشد ملک صاحب کا عدالتی مستقبل تو تاریک ہو ہی چکا ہے لیکن اس واردات کے اثرات نظامِ عدل، ریاستی اداروں اور خود نواز شریف کے مقدمے پر کیا مرتب ہوتے ہیں، یہ بحث جاری ہے۔ جوں جوں وقت گزرے گا، نقابیں اترتی جائیں گی، اور (شاید) دودھ اور پانی ایک دوسرے سے کچھ فاصلہ پیدا کر لیں۔ مریم نواز شریف، شہباز شریف، شاہد خاقان عباسی اور مریم اورنگزیب سمیت مسلم لیگ (ن) کے رہنمائوں اور ان کے ہم نوائوں کا مطالبہ ہے کہ فوری طور پر نواز شریف صاحب کو رہا کر دیا جائے کہ ان کے مقدمے کی اخلاقی اور قانونی ساکھ متاثر ہو چکی ہے۔ ان کے مخالفین چوں اور چناں میں لگے ہوئے ہیں، کوئی کہہ رہا ہے مقدمے کی سماعت دوبارہ ہو گی، اور اسے واپس احتساب عدالت کے پاس بھیج دیا جائے گا، کوئی یہ کوڑی لا رہا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ خود ہی پرانا فیصلہ کالعدم کرنے کے بعد مقدمہ نئے سرے سے سن سکتی ہے۔ نواز شریف کی بریت (یا رہائی) کا صدمہ برداشت کرنے پر وہ سارے کے سارے خود کو تیار نہیں کر پا رہے۔ قانونی نکات اور ان کی باریکیاں اپنی جگہ، لیکن سیاست کا دریا قانون کے کناروں میں بہنے کا پابند نہیں ہے۔ اس کی طغیانیاں اپنی ہوتی ہیں، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ نواز شریف کے خلاف ہونے والی کارروائیاں اپنا رعب داعب کھو بیٹھی ہیں، اور وسیع تر عوامی حلقے ان سارے معاملات پر ہنس رہے ہیں۔ جس طرح ذوالفقار علی بھٹو کی پذیرائی عوام کی عدالت میں موجود ہے، اور ان کے مخالفین کی زبانیں تک بند ہوتی چلی جا رہی ہیں، اسی طرح نواز شریف کا بیانیہ بھی اپنا رنگ لا رہا ہے بلکہ یہ کہیے کہ جما رہا ہے۔ ارشد ملک بے چارے اپنی ”ویڈیو‘‘ کے ہاتھوں مارے مارے پھرتے رہے، اور اب بھی پھر رہے ہیں۔ ان کی خلوت کی تصویر کشی نے انہیں ”مولو مصلی‘‘ بنا کر ر کھ دیا ہے۔ تحریک اخوت کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب نے غریبوں اور بے نوائوں کو اربوں روپے قرضِ حسنہ کی صورت

میں دے کر ان کے گھروں میں چراغ ہی روشن نہیں کیے، ان کے دُکھوں اور المیوں کو قلم بند کر کے ایک کہانی نویس کے طور پر بھی اپنا لوہا منوا لیا ہے۔ غربت، محرومی اور ظلم و ستم کے مارے ہوئے لوگوں کی (ان کی تحریر کردہ) کئی کہانیاں حال ہی میں ”مولو مصلی‘‘ کے نام سے کتابی شکل میں شائع ہوئی ہیں۔ ڈاکٹر صاحب ”مولو مصلی‘‘ کا تعارف کراتے ہوئے لکھتے ہیں: مولو مصلی دو الفاظ کا مجموعہ ہے، مولو اور مصلی… مولو، مولا بخش کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ ہمارے معاشرے میں ناموں کو بگاڑ لینا کوئی نئی بات نہیں۔ کرم علی کو ”کرملی‘‘ غلام محمد کو ”گاما‘‘، یا مختار کو ”موکھا‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس عمل کی بنیاد محبت سے زیادہ حقارت پر ہے۔ مصلی بھی مسلم شیخ کا بگاڑ ہے۔ مختلف مذاہب کی نچلی ذاتوں سے تعلق رکھنے والے جب حلقہ بگوش اسلام ہوئے تو بھی انہیں کوئی بلند سماجی مرتبہ نہ مل سکا۔ انہیں ”مسلم شیخ‘‘ کہا جانے لگا۔ ان افراد کا تعلق بھی نچلے طبقوں سے تھا، کم مرتبہ اور کم حیثیت۔ اس لیے انہیں پہچان کے لیے دیا گیا لفظ مسلم شیخ بگڑ کر ”مصلی‘‘ بن گیا۔ گویا مولو مصلی دوہری تحقیر کی عکاسی کرتا ہے، مولا بخش سے مولو اور مسلم شیخ سے مصلی…‘‘ ڈاکٹر امجد ثاقب کا کہنا ہے کہ مولو مصلی کی کہانی صرف چند لوگوں کی کہانی نہیں۔ یہ میری اور آپ کی مشترکہ کہانی ہے۔ یہ پاکستان کی کہانی ہے…… برادر عزیز سہیل وڑائچ اس کتاب کی تعارفی تقریب میں تقریر کرنے آئے تو زبانِ حال سے پکار اُٹھے، مَیں بھی مولو مصلی ہوں، مجھے اظہار کی اجازت نہیں ہے۔ میرا گلا دبا دیا گیا ہے۔ میری قوت گویائی چھین لی گئی ہے۔ جس شخص کا ٹیٹوا آسانی سے دبایا جا سکے، وہ ”مولو مصلی‘‘ ہی تو سمجھا جائے گا۔ بھلے بڑی سی کوٹھی میں رہتا اور بڑی سی گاڑی میں گھومتا ہو۔ ایئر کنڈیشنڈ دفتر میں بیٹھتا ہو۔ جہازوں پر اڑا پھرتا ہو، اور گھومتی ہوئی کرسی میں دھنس کر اپنے ارد گرد سے بے نیاز نظر آتا ہو۔ کرسیٔ صدارت پر راقم

الحروف کو یوں بٹھا دیا گیا تھا کہ گورنر پنجاب چودھری سرور صاحب کو اسلام آباد سے بلاوا آ گیا تھا، اور وہ بِلا چون و چرا ”حاضر جناب‘‘ کہہ کر بھاگ لیے تھے۔ خالی کرسی کو پُر کرنے کے لیے نگاہِ انتخاب مجھ پر پڑی، انکار کی مجال یوں نہ تھی کہ میڈیا کو یہ لفظ بھول بھول جاتا ہے۔ تقریر کی باری آئی تو یاد آیا کہ قائد اعظم نے تو ”مولو مصلی‘‘ سے وعدہ کیا تھا کہ پاکستان میں تمہیں ”شیخ مولا بخش‘‘ کہہ کر پکارا جائے گا، تمہاری کھوئی ہوئی شناخت واپس کر دی جائے گی۔ لیکن ”مولو مصلی‘‘ تو شیخ صاحب کیا بنتا، اچھے خاصے تسلیم شدہ شیخ صاحب بھی ”مولو مصلی‘‘ بنا ڈالے گئے ہیں۔ جج ارشد ملک تو اپنی رنگین خلوتوں کا خمیازہ بھگت رہے ہیں لیکن جن بے چاروں کی خلوتیں ویران ہیں، وہاں جھانکنے والوں کا مزہ کرکرا ہو ہو جاتا ہے، وہ جلوتوں کی پاداش میں دھرے جا رہے ہیں… کہ یہ ویران کیوں نہیں ہو رہیں ؎ ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں