ایک رات عمران خان نے مستعفیٰ ہونے کا ارادہ کر لیا تھا، لیکن جہانگیرترین فوراً وزیراعظم ہاوس پہنچے ، پھر کیا واقعات پیش آئے ؟ ہارون الرشید کا تہلکہ خیز انکشاف

اسلام آباد (نیوز پاکستان) معروف صحافی ہارون الرشید کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان ایک سٹیج پر آ کر اتنے تنگ آ گئے تھے کہ انہوں نے مستعفی ہونے کا ارادہ کر لیا تھا۔ہارون الرشید نے کہا کہ جس زمانے میں ہماری دوستی تھی تب وہ رات 12 بجے سو جاتے تھے اور صبح 7

بجے اٹھتے تھے۔اگر عمران خان کو 6 بجے اٹھانے کی کوشش کی جاتی تو وہ کسی صورت نہیں اٹھتے تھے۔ جب عمران خان نے مستعفی ہونے کا ارادہ کیا تو پھر جہانگیر ترین ان کے پاس گئے اور وزیراعظم عمران خان کو سمجھایا کہ یہ بات ٹھیک نہیں ہے۔ہارون رشید کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کو اب ڈٹ کر کھڑا ہونا چاہئیے۔عمران خان نے نوکریاں دینے اور گھر بنانے کے بڑے بڑے وعدے کیے جو اب وہ پورے نہیں کر سکتے۔لیکن عمران خان جرم کا خاتمہ ضرور کر سکتے ہیں۔جب کہ دوسری جانب معروف صحافی ضیاءالدین کا کہنا ہے کہ اپوزیشن تحریک انصاف کی حکومت نہیں گرانا چاہتی وہ چاہتے ہیں کہ یہ حکومت پانچ سال پورے کرے۔لیکن میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ شاہ محمود وزیراعظم ہوں گے اور انہیں عمران خان کے متبادل کے طور پر لایا جائے گا۔اور ایسا اگلے دو تین ماہ میں ہو جائے گا۔کیونکہ انہوں نے ملک کا جو حال کر دیا ہے اس میں شاہ محمود قریشی ہی وہ شخص ہیں جنہیں کام کرنے کا تجربہ ہے۔ انہوں فنانس سمیت مختلف شعبوں میں کام کیا ہوا ہے۔جس ہر تبصرہ کرتے ہوئے محمد مالک کا کہنا تھا کہ عمران ایسا بندہ ہے اگر اس کو اب کوئی ہٹائے گا تو وہ سب کو لے کے جائے گا وہ نہیں جانے والا بندہ اور نہ وہ جائے گا،عمران خان کسی کے کہنے پر گھر نہیں جائے گا،پی ٹی آئی عمران خان کے بغیر نہیں چل سکتا۔ جس پر ضیاءالدین نے کہا کہ عمران خان دو ہفتے قبل اپنا استعفیٰ بھی پیش کر چکے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں