آگے آگے دیکھو ہوتا ہے کیا ؟ حکومت نے شہباز شریف کے ساتھ ساتھ ان کے اہل خانہ کے حوالے سے بھی سخت ترین فیصلہ کر لیا

اسلام آباد (نیوز پاکستان) ڈیلی میل کے صحافی ڈیوڈ روز نے کہا ہے کہ پاکستانی حکومت شہباز شریف کے اہل خانہ کوبھی وطن واپس لانے کی کوشش کررہی ہے ۔ ہم نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ڈیوڈ روز نے کہا کہ پاکستان کی حکومت صرف سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار

کو ہی نہیں بلکہ مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف کے اہل خانہ کو بھی لندن سے پاکستان واپس لانے کی کوششیں کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خبر کا مقصد برطانوی امداد نہیں بلکہ اس کے غلط استعمال کو اجاگر کرنا ہے تاہم مسلم لیگ نون سے دو مرتبہ اس خبر کے حوالے سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن پارٹی کے رہنماوں کی طرف سے اس کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کہ شہزاد اکبر اور پاکستانی وکلا شہباز شریف کی فیملی کو لندن سے پاکستان واپس لانے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں جب کہ اسحاق ڈار کی واپسی پر معاہدہ خود میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ۔ دوسری جانب خبر کے مطابق معاون خصوصی برائے احتساب بیرسٹر شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ شہباز شریف لندن کی عدالت میں مقدمہ لیکر جائیں، ڈیلی میل خود اس کا جواب دیگا جبکہ میرے پاس اِن پر لگائے گئے ایک ایک الزام کا ثبوت موجود ہے اور میں وہ تمام ثبوت برطانوی عدالت میں پیش کردوں گا ۔ نجی ٹی وی چینل ’’جیونیوز‘‘ کے پروگرام ”نیا پاکستان “میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر شہزاد اکبر نے کہاہے کہ سابق وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کی باتوں پر ہنسی آرہی ہے کہ میں نے برطانوی اخبار میں سٹوری پلانٹ کروائی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف لندن کی عدالت میں مقدمہ لیکر جائیں ، ڈیلی میل خود اس کا جواب دیگا جبکہ میرے پاس ایک ایک ثبوت موجود ہے اور میں وہ تمام ثبوت برطانوی عدالت میں پیش کردوں گا کیونکہ پاکستان کی عدالتوں پر تو ان کواعتبار ہی نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں