آپ بھی سلیپروں میں گرفتار ہو سکتے ہیں

لاہور (نیوز پاکستان) عرفان صدیقی کی زندگی تین حصوں میں بٹی ہوئی ہے‘ یہ استاد تھے‘ یہ پوری زندگی پڑھاتے رہے‘ یہ پھر قلم کے مزدور بنے‘ لکھنا شروع کیا اور تیس سال لکھتے چلے گئے‘ کالم نوائے وقت میں شروع کیا اور جنگ سے ہوتے ہوئے خاموش ہو گئے اور ان کی زندگی

کا تیسرا حصہ سیاست ہے‘ یہ 1998ءمیں صدر رفیق احمد تارڑ کے ذریعے ایوان صدر میں داخل ہوئے اور پھر آہستہ آہستہ شریف خاندان کا حصہ بن گئے‘ یہ 1999ءمیں فوجی ٹیک اوور کے بعد دوبارہ صحافت میں آ گئے۔ یہ کالم لکھتے رہے اور کمال کرتے رہے‘ اللہ تعالیٰ نے انہیں لفظوں کو موتی بنانے اور پھر ان موتیوں کو خیال کی لڑی میں پرونے کا فن دے رکھا ہے‘ یہ فن اللہ تعالیٰ بے، شمار لوگوں کو عنایت کرتا ہے لیکن قدرت نے اس فن کو اصل روح کے ساتھ استعمال کا طریقہ صرف عرفان صدیقی کو عطا کیا‘ ان کی تحریر میں روانی بھی ہے‘ تسلسل بھی اور اثر آفرینی بھی‘ یہ جب کالم لکھا کرتے تھے تو میں ان کی تحریر سے اکثر اوقات ” جیلس“ ہو جاتا تھا اور اپنے آپ سے کہتا تھا ”کیا تم بھی کبھی اس طرح لکھ سکو گے“ میرے اندر سے ہر بار ناں میں جواب آتا تھا‘ کیوں؟ کیوں کہ میں جانتا تھا میں جب بھی لٹکانے کو آویزاں لکھوں گا تومیں برا لگوں گا‘ یہ کام‘ یہ اسلوب صرف عرفان صدیقی صاحب کو جچتا ہے‘ یہ میرے جیسے نالائقوں کے بس کی بات نہیں‘ یہ بعد ازاں میاں نواز شریف کے ان آفیشل ایڈوائزر ہو گئے‘ یہ میاں صاحب کو سعودی عرب اور لندن میں بھی ملتے تھے اور جب میاں برادران

2007ءمیں واپس آئے تو عرفان صدیقی بھی پاکستان آگئے‘ یہ بعد ازاں مستقل طور پر میاں نواز شریف سے وابستہ ہو گئے‘ یہ ان کے روزانہ کے وزیٹر بھی تھے‘ تقریر نویس بھی اور ایڈوائزر بھی‘ یہ ملک کے ہر اہم سیاسی فیصلے میں بھی شامل ہوتے تھے‘ یہ میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کے درمیان رابطے کا ذریعہ بھی تھے‘ مجھے آج بھی یاد ہے یہ 2005ءمیں ڈاکٹر قیوم سومرو کو میرے پاس لے کر آئے تھے‘ ڈاکٹر قیوم سومرو اس وقت تازہ تازہ آصف علی زرداری کے مشیر بنے تھے۔یہ جیل میں بند آصف علی زرداری کے پیغامات مختلف لوگوں تک پہنچاتے تھے‘ بہرحال قصہ مختصر 2013ءمیں میاں نواز شریف کی حکومت بنی تو یہ حکومت کی ح بن گئے‘ یہ وزیراعظم کے مشیربھی تھے اور تقریر نویس بھی‘ میاں نواز شریف کی تمام تقریریں عرفان صدیقی نے لکھی تھیں اور خوب لکھی تھیں‘ یہ اس دوران اہم ایشوز پر میاں نواز شریف کو مشورے بھی دیتے تھے۔میں آپ کو ضمناً ایک اور واقع بھی بتاتا چلوں‘ میاں نواز شریف 22مئی 2016ءکو دل کے آپریشن کے لیے لندن گئے ۔ملک میں حکومت کے خلاف خوف ناک مہم چل رہی تھی‘ لوگوں کا خیال تھا میاں نواز شریف وزارت عظمیٰ چھوڑ کر چلے گئے ہیں‘یہ اب واپس نہیں آئیں گے‘ میاں نواز شریف نے آپریشن سے ایک دن قبل میاں شہباز شریف کو لندن بلایا‘ پورے خاندان کے ساتھ ریستوران میں بیٹھے اور میاں شہباز شریف سے کہا” میں نے سیاست سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کر لیا ہے‘ میرا آپریشن کام یاب ہو گیا تو

میں پھر بھی ریٹائر ہو جاﺅں گا‘ آپ آگے بڑھیں اور پارٹی اور ملک دونوں چلائیں“۔میاں شہباز شریف نے انکار کر دیا‘ ان کا کہنا تھا آپ پہلے آپریشن کرائیں اور پھر دیکھیں گے“ بہرحال قصہ مختصر نواز شریف کا آپریشن ہوگیا اور یہ 4جون 2016ءکو اپنے کمرے میں شفٹ ہو گئے‘ میاں نواز شریف نے اس دن ایک بار پھر میاں شہباز شریف کو بلایا اور انہیں آگے آنے اور خود پیچھے ہٹنے کا اعلان کر دیا‘ یہ دونوں بھائی دیر تک ہاں اور ناں کرتے رہے یہاں تک کہ میاں شہباز شریف مان گئے‘ فیصلہ ہوا عرفان صدیقی آئیں گے‘ تقریر لکھیں گے اور میاں نواز شریف ہسپتال سے تقریر کر کے سیاست سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیں گے ‘ میاں شہباز شریف پارٹی اور وزارت عظمیٰ سنبھال لیں گے۔عرفان صدیقی کو بلایا گیا‘ یہ میاں نواز شریف کے ساتھ چند لمحے بیٹھے اور میاں نواز شریف کو فیصلہ واپس لینے پر قائل کر لیا‘ میاں شہباز شریف اور پورا خاندان باہر بیٹھا رہ گیا اور میاں نواز شریف نے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ صحت مندی اور جاتی عمرہ تک ملتوی کر دیا‘ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے میاں نواز شریف عرفان صدیقی کے کتنے زیر اثر ہیں‘ شریف فیملی اور پارٹی کے اہم لوگ سمجھتے ہیں اگر عرفان صدیقی اس دن میاں نواز شریف کا ارادہ تبدیل نہ کرتے تو آج پارٹی یوں گلی گلی خوار نہ ہو رہی ہوتی۔میاں نواز شریف بھی جیل میں نہ ہوتے‘ میاں شہباز شریف کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات اچھے تھے‘ یہ ان تعلقات کی بنیاد پر اپنی راہیں سیدھی کر لیتے اوریوں ملک میں آج بھی ن لیگ کی حکومت ہوتی‘ شریف خاندان کا ایک دھڑا مریم نواز‘ پرویز رشید اور عرفان صدیقی کو موجودہ حالات کا ذمہ دار

سمجھتا ہے‘ یہ لوگ سمجھتے ہیں میاں نواز شریف ان تینوں کے زیر اثر تھے اور یہ تینوں بے لچک ہیں‘ یہ میاں نواز شریف کو ”ڈٹ جائیں‘ قوم آپ کے ساتھ ہے“ کے مشورے دیتے رہے۔اور میاں نواز شریف ڈٹتے ڈٹتے وہاں پہنچ گئے جہاں سے ان کی واپسی کسی انقلاب یا سمجھوتے کے بغیر ممکن نہیں اور انقلاب سردست آ نہیں رہا اور سمجھوتے سے میاں نواز شریف انکاری ہیں چناں چہ معاملات پھنستے اور الجھتے چلے جا رہے ہیں‘ میرا ذاتی خیال ہے یہ حالات ملک کو پانچویں مداخلت کی طرف لے جائیں گے‘ حکومت کا ہرفیصلہ ملک کو اندھی کھائی کی طرف دھکیلتا چلا جا رہا ہے اور ہم نے اگر ڈھلوان پر سرکنے کا یہ عمل بند نہ کیا تو مداخلت بھی ناگزیر ہو جائے گی اور لوگ بھی حبس سے بچنے کے لیے لُو سے سمجھوتہ کر لیں گے اور یہ حالات اب سیاست کے ہر طالب علم کو دیوار پر تحریر نظر آ رہے ہیں‘ میں عرفان صدیقی کی طرف واپس آتا ہوں۔عرفان صدیقی میاں نواز شریف کی گرفتاری اور حکومت کے بعد پس پردہ چلے گئے ‘ یہ زیادہ بولتے چالتے بھی نہیں تھے اور یہ حکومت پر بھی تنقید نہیں کرتے تھے تاہم یہ میاں نواز شریف کی جنرل ملاقاتوں پر پابندی لگنے تک ان سے ہر جمعرات کے دن ملاقات اور مریم نواز کو شعر اور تقریروں کے لیے فقرے ضرور لکھ کر دیتے تھے اور یہ شاید آج کے دور میں ناقابل معافی جرم ہے چناں چہ صدیقی صاحب کو جمعہ 26 جولائی کی رات گھر سے گرفتار کر لیا گیا‘ یہ سونے کے کپڑوں اور سلیپروں میں گرفتار ہوئے اور ان کی گرفتاری سے پہلے باقاعدہ گلی بند کی گئی اور انہیں ادویات تک نہیں لینے دی گئیں۔عرفان صدیقی پر چارج شیٹ دل چسپ تھی‘ پولیس کا کہنا تھا عرفان صاحب نے گھر کرائے پر دیا اور تھانے میں نئے کرایہ دار کا اندراج نہیں کرایا‘ عرفان صدیقی نے جواب دیا وہ گھر میرا نہیں‘ میرے بیٹے کا ہے اور وہ 50 سال کا میچور شخص ہے‘ میرا جرم صرف اتنا ہے میرے بیٹے کی ولدیت کے خانے میں میرا نام لکھا ہے‘ کیا یہ جرم اتنا سنگین تھا کہ پولیس رات 10 بجے دس بارہ گاڑیوں میں آئے اور مجھے دہشت گرد کی طرح اٹھا کر لے جائے‘ مجھے اگلے دن ہتھکڑی لگا کر

جج کے سامنے پیش کیا جائے اور وہ مجھے 14 دن کے لیے جیل بھجوا دے‘ عرفان صدیقی کی یہ بات غلط نہیں۔پولیس اگر کرایہ نامہ کا اندراج نہ کرانے والے تمام مجرموں کے والدین کو اسی طرح گرفتار کر رہی ہے اور ان لوگوں کو ہتھکڑی لگا کر عدالتوں میں پیش کیا جاتا ہے اور یہ 14 دنوں کے لیے جیل بھجوائے جاتے ہیں تو پھر ریاست مدینہ بے شک عرفان صدیقی کو بھی گرفتار کر لے اور انہیں بھی قصوری چکی میں بند کر دے لیکن ایسا نہیں ہو رہا‘ عرفان صدیقی کے ساتھ خصوصی سلوک کیا گیا‘یہ اپنی وفاداری اور سیاسی وابستگی کی وجہ سے گرفتار کیے گئے اور یہ انتہائی ظلم ہے۔یہ 78 سال کے بزرگ اور علیل ہیں‘ ریاست اگر ایسے شخص کو ایک بھونڈے الزام میں رات کے وقت گرفتار کر سکتی ہے تو پھر پیچھے کیا بچ جاتا ہے‘ خوف اور جبر سے صرف جیلیں‘ تھانے اور عقوبت خانے چلتے ہیں ریاستیں اور معاشرے نہیں‘ اختلاف رائے‘ جسٹس اور آزادی معاشروں کا حسن بھی ہوتا ہے اور ترقی کا فیول بھی‘ ریاست اگر اختلاف رائے کو جرم بنا دے گی‘یہ اگر اپنی مرضی کے رنگوں کے انتخاب پر لوگوں کو عبرت کی نشانی بنانا شروع کر دے گی تو پھر معاشرہ‘ معاشرہ کیسے کہلائے گا؟ حکومت اور ریاست دونوں کو یہ سوچنا بھی ہو گا اور سوچ کر اپنا رویہ بھی بدلنا ہوگا۔میں سمجھتا ہوں یہ کارروائیاں اگر عمران خان کی اجازت اور مرضی سے ہو رہی ہیں تو یہ تشویش ناک ہیں لیکن یہ اگر ان کی مرضی اور اجازت کے بغیر خود کار نظام کے تحت ہو رہی ہیں تو پھر یہ انتہائی تشویش ناک ہیں‘ پھر اس حکومت کو حکومت کہنا حکومت کی توہین ہے‘ پھر عمران خان کو خود ہی استعفیٰ دے کر نئے الیکشن کرا دینے چاہییں ورنہ دوسری صورت میں عوام کا اس رہے سہے سسٹم سے بھی اعتماد اٹھ جائے گا‘ہمیں آج ماننا ہوگا لوگ اس ملک میں خود کو غیر محفوظ بھی سمجھ رہے ہیں اور جبر کا شکار بھی اور یہ فیلنگز‘ یہ احساسات معاشروں اور ملکوں دونوں کو کھا جاتے

ہیں۔یہ سوسائٹی کا نروس بریک ڈاﺅن کر دیتے ہیں اور حکومت نے عرفان صدیقی کو گرفتار کرکے پورے ملک کو یہ پیغام دے دیا کہ آپ اگر محفوظ ہیں تو یہ اللہ کا خصوصی کرم اور ریاستی اداروں کی مہربانی ہے ورنہ آپ اور عرفان صدیقی میں زیادہ فرق نہیں‘ آپ بھی کسی دن سلیپروں میں گرفتار ہو سکتے ہیں‘ یہ پیغام بہت لاﺅڈ اینڈ کلیئر ہے لیکن یہ حقیقت ہے اس ٹائپ کے لاﺅڈ اینڈ کلیئر پیغام معاشروں کی گروتھ میں سپیڈ بریکر ثابت ہوتے ہیںلہٰذا میری درخواست ہے ملک کو ملک رہنے دیں اسے عقوبت خانہ نہ بنائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں