ارشاد بھٹی کس بزنس مین کا خاص بندہ تھا اور کیسے جیو کا حصہ اور صحافی بنا؟ تصاویر کو غور سے دیکھیے اور جانیے

لاہور (نیوز پاکستان) ان تصاویر کو غور سے دیکھیے یہ ہاتھ باندھے پیچھے کھڑا شخص کوئی اور نہیں بلکہ مشہور تجزیہ نگار ،عصر حاضر کی صحافت کا بڑا نام ارشاد بھٹی ہے۔



بہت چھپا مگر کیمرہ کی آنکھ سب دکھا دیتی ہے۔ یہ تصاویر جیو کے پروگرام “ایک دن جیو کے ساتھ” میں صدرالدین ہاشوانی کے ساتھ پروگرام کی ہیں۔ پنڈی بھٹیاں کے پیدائشی ارشاد نہ تو بھٹی ہیں اور نہ صحافی۔ میں ذات پات پر یقین نہیں رکھتا مگر یہ جس خاندان میں پیدا ہوئے اسے لوگ عام طور پر مراسی کہتے ہیں۔ ارشاد یتیم تھا پھر والدہ کی وفات کے بعد اس نے دلالی کا سفر لاہور سے شروع کیا اور اسلام آباد تک نام کمایا۔ والدہ کی وفات کے بعد زندگی کا وہ رخ بطور پیشہ اختیار کیا جس کا نام مہذب لوگ زبان پر نہیں لاتے۔ میں بھی نہیں لاؤں گا یہ بے چارہ کچھ علت اور کچھ مجبوریوں کے سبب زندگی کے اس سفر پر نکلا جس کا واحد مقصد پیسہ کمانا ہے یہ اسلام آباد کے سی ڈی اے کے سرائے میں بھی خدمات فراہم کرتا رہا۔۔۔۔ارشاد صدور بھائی (ہاشوانی گروپ ) کے ہوٹل سے منسلک ایک کلب کے گیٹ کیپر تھے ( ساتھ دلالت کے فرائض بھی نبھاتے)۔ جیسا کہ عرض کی نہ تو یہ بھٹی نہ صحافی البتہ بہت سے پردہ نشینوں کا راز دان ہے جس میں بہت سارے بڑے بڑے اداروں والے بھی ہیں ۔۔۔میرے ایک قریبی دوست جو اس صدرالدین کے ہوٹل کے پر ویلیج ممبر ہیں وہ موصوف کو قریبی طور جانتے ہیں۔ آپ کبھی مرتضی ہاشوانی اور اسکی بہن سارہ سے ان کے بارے پوچھیے انہوں نے کئی دفعہ سب کے سامنے ان کے منہ پر تھپڑ رسید کیے۔ آپ بھٹی سے پوچھیے یہ میریٹ میں کیا خدمات دیتا تھا؟ جیو کے پینل پر یہ کسی ایسے بندے کی فرمائش پر ہی آیا جو اس سے خوش ہے اور طاقتور گھر سے تعلق رکھتا ہے۔ جیو کے پینلسٹ اس کی اصلیت جانتے ہیں اسی لیے اکثر اس کی بے عزتی کرتے رہتے ہیں۔ مگر سب مجبور بھی ہیں کہ ایک حد سے آگے نہیں جا سکتے۔ سو پیارے بچو آجکل صحافت پر یہ وقت آ گیا ہے ایسے لوگ ہمیں اخلاقیات سکھاتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں