پاکستان کی بڑی سرکاری یونیورسٹی میں اخلاق و تہذیب کی دھجیاں اڑا دی گئی، مانع حمل اشیاء کے سرعام اسٹالز لگادیےگئے

کراچی (نیوز پاکستان) ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں ایک سیمینارکے موقع پراخلاق و تہذیب کی دھجیاں اڑا دی گئیں، کالج میں سیمینار کے دوران کنڈم ’’جوش‘‘ کے ڈبے کی ڈمی کے ذریعے پروموشن کی جاتی رہی۔ تفصیلات کے مطابق ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں’’ماں اور نوزائیدہ بچوں کی صحت اور بڑھتی ہوئی آبادی‘‘ کے موضوع پر ایک آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا ۔ سیمینار میں مختلف کمپنیوں کے اسٹالز بھی لگائے گئے تھے جن میں مانع حمل اشیا بنانے والی کمپنی ’’جوش‘‘ کا بھی اسٹال موجود تھا۔ دوران سیمینار ’’جوش‘‘ کی پبلسٹی کے لیے کچھ لوگ ڈبے کا ماڈل پہن کر پورے کالج میں گھومتے رہے۔ جو انتہائی غیر اسلامی و غیر اخلاقی طریقہ کار تھا۔کالج میں ایک وینڈنگ مشین بھی لگائی گئی تھی جو مشہور مانع حمل طریقے، تصاویر اور وڈیوز طلبہ کو مفت تقسیم کر رہی تھی اور اس کے ساتھ ’’خود اپنا کنڈوم ڈیزائن کرو‘‘ جیسی سرگرمیاں وہاں موجود تھیں۔
اس پورے عمل کو اٹینڈ کرنا سب کے لئے لازم کیا گیا تھا اور کسی بھی طالبعلم کو نہ آنے پر انتظامیہ کی جانب سے سخت کاروائی کی دھمکی بھی دی گئی تھی۔اس ضمن میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یونیورسٹی میں اس طرح کی سرگرمیوں کی اجازت کس نے دی؟ اس کی ذمے داری کس پر ڈالی جائے؟ محکمہ صحت؟ یونیورسٹی کے وائس چانسلر؟ جوکہ کراچی میں موجود ہی نہیں تھے یا پھر کالج پرنسپل اس سب کے ذمے دار ہیں؟۔ اس حوالے سے ڈاؤ میڈیکل کالج (ڈی ایم سی) کے پرنسپل ڈاکٹر امجد سراج میمن سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ حکومت سندھ کی بہبود آبادی سے متعلق وزارت نے ڈاؤ میڈیکل کالج سے یہاں ماں اور نوزائیدہ بچوں کی صحت کے حوالے سے ایک آگاہی سیمینار کرنے کی اجازت مانگی تھی جس کی ہم نے اجازت دے دی تھی، یہ آگاہی سیمینارایک این جی او کے اشتراک سے منعقد کیا گیاتھا۔ ڈاکٹر امجد سراج میمن کا مزید کہنا تھا کہ سیمینارز کے دوران مختلف اسٹالز معمول کی چیزیں ہیں، ہم سے ورکشاپ کی اجازت مانگی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ کچھ اسٹالز بھی طبی معلومات و آگاہی کے لیے لگائے جائیں گے تاہم ’’جوش‘‘ کے حوالے سے ہمارے علم میں نہیں تھا ۔اس طرح کی پبلسٹی کی ہم سے کوئی اجازت نہیں لی گئی تھی۔ڈاکٹر امجد سراج میمن کا مزید کہنا تھا کہ میں3 بجے تک کالج میں رہا میرے پاس اس حوالے سے کسی نے کوئی شکایت نہیں کی اور نہ اس قسم کی سرگرمی کی نشان دہی کی گئی، اگر بروقت نشان دہی کی گئی ہوتی تو یقینا اس کے خلاف ضرور ایکشن لیا جاتا۔
یہ ویڈیو بھی دیکھیں:

اپنا تبصرہ بھیجیں