سپریم کورٹ نے پاکستان کے سب سے بڑے اور متنازع کیس میں سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کےتمام احکامات منسوخ کردیئے

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ کے مسٹر جسٹس منظور احمد ملک ،مسٹر جسٹس سیدمنصور علی شاہ اور مسٹر جسٹس یحییٰ آفریدی پر مشتمل بنچ نے پاکستان کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ انسٹی ٹیوٹ (پی کے ایل آئی )کیس میں سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے ازخود نوٹس سمیت ان کے بنچ کے تمام سابقہ

احکامات منسوخ کردیئے اورقراردیا کہ کسی ادارے کو حدود سے تجاوز کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ فاضل بنچ نے سابق چیف جسٹس کی طرف سے پی کے ایل آئی کا انتظام چلانے کے لئے قائم کی گئی ایڈہاک کمیٹی ختم کرکے سابقہ انتظامی بورڈ بحال کر دیا ، فاضل بنچ نے پاکستان کڈنی اینڈ لیورانسٹی ٹیوٹ میں مبینہ کرپشن کے خلاف محکمہ اینٹی کرپشن کو سابق چیف جسٹس کے بنچ کی طرف سے دیا گیا انکوائری کا حکم بھی واپس لے لیااورقراردیاکہ انکوائری سے متعلق اب سپریم کورٹ کا کوئی حکم موجود نہیں ہے تاہم متعلقہ ادارے قانون کے مطابق جوکارروائی بنتی ہے وہ کرسکتے ہیں۔مسٹر جسٹس منظور احمد ملک نے ریمارکس دیئے کہ ہر ادارہ اپنی حدود میں رہ کر قانون کے مطابق کام کرے،کسی کو حدود سے تجاوز کی اجازت نہیں دی جاسکتی،فاضل بنچ نے پی کے ایل آئی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر سعید اختر کے بیرون ملک جانے پر پابندی سے متعلق سابق چیف جسٹس کا حکم ختم کرتے ہوئے انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت بھی دے دی ہے ۔ فاضل بنچ نے پنجاب حکومت کو ہدایت کی ہے کہ پی کے ایل آئی کو قانون کے مطابق چلایاجائے۔فاضل بنچ نے پی کے ایل آئی ایکٹ میں ترمیم

کے لئے عدالتی حکم پر بنائی گئی کمیٹی بھی تحلیل کردی ہے ،دوران سماعت ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل امتیاز کیفی نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ مذکورہ تمام اقدامات سابق چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے بنچ کے حکم پر کئے جارہے تھے ،جس پر جسٹس منظور احمد ملک نے ان سے کہا کہ آپ سپریم کورٹ کے سابقہ حکم کی طرف نہ آئیں ،ہم اس حکم کو زیربحث نہیں لانا چاہتے۔دوران سماعت پی کے ایل آئی کے حوالے سے انکوائری رپورٹ پیش کی گئی تو فاضل بنچ نے استفسار کیا کہ محکمہ اینٹی کرپشن کس قانون کے تحت انکوائری کر رہا ہے؟جس پرسرکاری وکیل نے کہا کہ سابق چیف جسٹس میاںثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بنچ نے حکم دیاتھا،جس پر جسٹس منظور احمد ملک نے کہا کہ انکوائریوں ،شنکوائریوں کوچھوڑیں ،کسی انکوائری کی ضرورت نہیں، پی کے ایل آئی کی انکوائری کا حکم بھی واپس لے رہے ہیں۔ سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اپنے دور میں پی کے ایل آئی میں مبینہ بے ضابطگیوں کا ازخود نوٹس لیا تھا اور اس حوالے سے متعدد احکامات جاری کئے تھے۔16جنوری کو سابق چیف جسٹس کے بنچ نے محکمہ اینٹی کرپشن کو انکوائری مکمل کرکے حتمی رپورٹ پیش کرنے

کا حکم دیاتھا،جس کے بعد وہ خود ریٹائرہوگئے اور یہ کیس گزشتہ روز سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں مسٹر جسٹس منظور احمد ملک ،مسٹر جسٹس سیدمنصور علی شاہ اور مسٹر جسٹس یحییٰ آفریدی پر مشتمل بنچ کے روبرو سماعت کے لئے پیش ہوا۔فاضل بنچ نے مذکورہ احکامات کے ساتھ یہ ازخود نوٹس کیس نمٹادیا، سابق چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے بنچ نے پی کے ایل آئی کے کھاتوں کا فرانزک آڈٹ بھی کروایا تھا اور فرانزک آڈیٹر جمیل زبیری کی رپورٹ پر محکمہ اینٹی کرپشن کو انکوائری کی ہدایت کی تھی۔سابق چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کے سابق جج اقبال حمید الرحمن کی سربراہی میں 6 رکنی ایڈہاک کمیٹی تشکیل دی تھی، جسے ہسپتال کے مالی اور انتظامی معاملات چلانے کی ہدایت کی گئی تھی۔جسٹس منظوراحمد ملک کی سربراہی میں قائم بنچ نے پی کے ایل آئی کے معاملات عدالتی احکامات کے تحت چلانے کا حکم بھی واپس لے لیاہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں